کیا بیوہ کے لیے شوہر کے گھر ہی عدت پوری کرنا ضروری ہے؟

سوال نمبر:2504
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ ضروری ہے کہ ایک بیوہ اپنی عدت اپنے مرحوم شوہر کے گھر ہی پوری کرے، جبکہ اس کے پاس رہنے والے صرف دو نابالغ بچے ہوں، اس کے علاوہ ضروریات زندگی پوری کرنے کے لیے اور کوئی نہ ہو؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ سگے ماموں کے فوت ہونے کہ بعد ممانی محرم رہے گی یا نا محرم۔

  • سائل: ایاز علیمقام: گجرانوالہ، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 30 مارچ 2013ء

زمرہ: بیوہ کی عدت

جواب:

پہلی بات یہ ہے بیوہ کو اگر شوہر کہ گھر عدت گزارنے میں کوئی مشکل ہے تو والدین کے گھر یا کوئی بھی مناسب جگہ ہو، جہاں وہ محفوظ بھی ہو اور آسانی بھی ہو عدت گزار سکتی ہے، جائز ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ممانی ماموں کے زندہ ہوتے ہوئے بھی نامحرم ہی ہوتی ہے اور وفات کے بعد بھی، چاہے سگا ہی ہو۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟