Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا بیوہ کے لیے شوہر کے گھر ہی عدت پوری کرنا ضروری ہے؟

کیا بیوہ کے لیے شوہر کے گھر ہی عدت پوری کرنا ضروری ہے؟

موضوع: بیوہ کی عدت

سوال پوچھنے والے کا نام: ایاز علی       مقام: گجرانوالہ، پاکستان

سوال نمبر 2504:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ ضروری ہے کہ ایک بیوہ اپنی عدت اپنے مرحوم شوہر کے گھر ہی پوری کرے، جبکہ اس کے پاس رہنے والے صرف دو نابالغ بچے ہوں، اس کے علاوہ ضروریات زندگی پوری کرنے کے لیے اور کوئی نہ ہو؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ سگے ماموں کے فوت ہونے کہ بعد ممانی محرم رہے گی یا نا محرم۔

جواب:

پہلی بات یہ ہے بیوہ کو اگر شوہر کہ گھر عدت گزارنے میں کوئی مشکل ہے تو والدین کے گھر یا کوئی بھی مناسب جگہ ہو، جہاں وہ محفوظ بھی ہو اور آسانی بھی ہو عدت گزار سکتی ہے، جائز ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ممانی ماموں کے زندہ ہوتے ہوئے بھی نامحرم ہی ہوتی ہے اور وفات کے بعد بھی، چاہے سگا ہی ہو۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2013-03-30


Your Comments