کیا وضو کی جگہ سلام کا جواب دینا جائز ہے؟

سوال نمبر:2493
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ اللہ پاک آپ کو جزا دے کہ اتنا پیارا سلسلہ آپ نے مسلمانوں کی آسانی کے لیے شروع کر رکھا ہے۔ میرا سوال ہے کہ ہمارے آفس کے فلور کا ایک حصہ واش روم اور وضو خانہ کے لیے مخصوص ہے جو کچھ اس طرح ہے کہ چاروں کونوں پر واش روم جبکہ درمیان میں 2 بیسن اور 2 ٹونٹیاں وضو کے لیے موجود ہیں۔ کیا اس جگہ وضو جائز ہے؟ اور کولیگ جب اس جگہ وضو کے لیے ملتے ہیں تو ایک دوسرے کو سلام دعا بھی کرتے ہیں،کیا اس جگہ سلام کرنا اور جواب دینا جائز ہے؟

  • سائل: محمد اعظممقام: لاہور
  • تاریخ اشاعت: 30 مارچ 2013ء

زمرہ: وضوء   |  آدابِ ملاقات

جواب:

بالکل اس جگہ وضو جائز ہے۔ وہاں کوئی گندگی نہیں ہے، گندگی تو واش روم کے اندر ہوتی ہے۔ اس جگہ ملتے وقت سلام دعا بھی کر سکتے ہیں، لیکن واش روم میں بیٹھے ہوئے کو سلام کیا جائے نہ ہی وہ جواب دے، باقی تو دوسرے کو سلام کر بھی سکتے ہیں اور جواب بھی دے سکتے ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟