سارے سودی نظام میں‌ PLS کیسے جائز ہے؟

سوال نمبر:2466
السلام علیکم آپ کا جواب دینے کا شکریہ لیکن ابھی تک میرا جواب ادھورا ہے کہ جب سارا بینکنگ سسٹم ہی حرام ہے تو پھر PLS حلال کیسے ہو جاتا ہے؟ جیسے آپ نے اپنے فتوی نمبر 748 میں‌ لکھا ہوا؟

  • سائل: وسیم احمدمقام: دبئی، متحدہ عرب امارات
  • تاریخ اشاعت: 18 مارچ 2013ء

زمرہ: سود   |  نفع و نقصان شراکتی کھاتہ

جواب:

سارے نظام سے مراد یہ ہے کہ پہلے کوئی ایسا شعبہ نہیں تھا۔ کچھ عرصہ پہلے PLS کا شعبہ شروع کیا گیا ہے، جو آج کل تقریبا تمام بینکوں میں PLS کے اکاؤنٹس کھل گئے ہیں۔ اس میں جو بینک شرعی اصولوں کے مطابق مشارکہ اور مضاربہ پر عمل کر رہا ہو اسے حرام نہیں کہہ سکتے ہیں، ہاں بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس کے اندر سارا کچھ وہی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہمیں اس سے ہمیں غرض نہیں ہے، جس طرح بازار سے گوشت حلال سمجھ کر لے رہے ہیں لیکن ہو وہ کتے کا یا مرے ہوئے جانور کا، اس کا گناہ ہمیں نہیں ہو گا اس دینے والے کو ہو گا۔ اسی طرح یہاں یہی سارا کچھ تو بتایا جاتا ہے کہ یہ شعبہ نفع نقصان کی شراکت کے ساتھ کاروبار کرتا ہے، اسی کے مطابق تقسیم کی جاتی ہے۔ لہذا سارے سودی نظام میں اگر کوئی شعبہ غیر سودی ہو تو اسی سے فائدہ اٹھایا جائے تاکہ اس کی حوصلہ افزائی ہو اور اس کی ترقی ہو۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟