کیا قرآن پاک کے بوسیدہ اوراق کو جلانا صحیح‌ ہے؟

سوال نمبر:2459
حضرت مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکا تہ قرآن پاک طبع کرنے والے ادارے اگر طباعت میں غلطی ہو جاتی ہے تو ان نسخوں کو کباڑی کے ہاتھ فروخت کر دیتے ہیں پھر کباڑی کے کہنے کے مطابق وہ ان نسخوں کو کاغذ بنانے والی فیکٹری میں بھیج دیتے ہیں اور وہاں پھر انکو کورے کاغذ کی شکل میں تبدیل کر دیا جاتا ہے کیا یہ طریقہ صحیح ہے یا ا س کے علاوہ اور کوئی بہتر شکل ہو تو وضاحت فرما دیں؟ قرآن پاک کے بوسیدہ اوراق کو جلانا صحیح ہے یا ندی میں ڈالنا جبکہ ندی میں ڈالی ہوئی چیزیں ایک جگہ جاکر رک جاتی ہیں اور سرکاری اہل کار انہیں نکال کر کوڑے میں ڈال دیتے ہیں ایک طریقہ لوگ یہ کرتے ہیں کہ کسی مسمار شدہ قبر میں ان کو ڈال دیتے ہیں، کون سا راستہ زیادہ صحیح ہے؟ رہنمائی فرمائیں

  • سائل: ناظم انصاریمقام: گاندھی نگر دہلی، ہندوستان
  • تاریخ اشاعت: 26 مارچ 2013ء

زمرہ: جدید فقہی مسائل

جواب:

اس مسئلہ کا بہترین حل یہی ہے کہ مقدس اوراق فیکٹری والوں کو دے دیئے جائیں۔

مزید مطالعہ کے لیے یہاں کلک کریں
ضعیف اوراق قرآن کی حفاظت کیسے کی جائے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟