بیوی کو شوہر یا والد کے حکم میں سے کس کو ترجیح دینی چاہیے؟

سوال نمبر:2397
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ کیا بیوی کو شوہر کے مقابلے میں باپ کی بات ماننی چاہیے یا شوہر کی جبکہ دونوں ایک دوسرے کے مخالف جائز حکم دے رہے ہیں۔ میری بیوی میکے ملنے گئی اور باپ نے روک لیا جبکہ میں بلا رہا ہوں۔ مگر اس کے باپ نے یہ شرط رکھی ہے کہ لینے کے لئے تم آؤ گے تو بھیجوں گا۔ اس صورت حال میں بیوی کو کس کا حکم ماننا چاہیے؟

  • سائل: شہباز خانمقام: کراچی، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 31 جنوری 2013ء

زمرہ: والدین کے حقوق

جواب:

باپ اور خاوند کے حکم ماننے میں کوئی ناپ تول کرنے کی ضرورت نہیں ہے نہ ہی باپ کو کوئی ایسی شرط لگانی چاہیے جو اس کی بیٹی کو مشکل میں ڈال دے۔ خاوند کو بھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر بچوں کی طرح ضد نہیں کرنی چاہیے، ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ انہوں نے کوئی ایسی بات کرنی ہو جو آپ کے علاوہ کسی اور سے نہ کر سکتے ہوں، اس لیے آپ خود ہی چلے جائیں، بیوی کو بھی لے آئیں اور مسئلہ بھی حل ہو جائے۔ اگر خود نہیں جا سکتے تو والد یا والدہ کو بھیج دیں لیکن آپ کے بھائی آپ کی بیوی کو لینے نہیں جا سکتے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں لاعلمی کی وجہ سے چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں اور آپس میں اختلافات کو جنم دیتے رہتے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ بہر حال بیوی کو خاوند کی بات ماننی چاہیے اگر خاوند غیر شرعی کام کا حکم نہ دے رہا ہو۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟