Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا ڈپریشن میں‌ طلاق واقع ہو جاتی ہے؟

کیا ڈپریشن میں‌ طلاق واقع ہو جاتی ہے؟

موضوع: طلاق

سوال پوچھنے والے کا نام: وقار احمد       مقام: کراچی

سوال نمبر 2369:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ میں ڈپریشن کا مرض ہوں اور مجہے غصہ بہت آتا ہے اور جب غصہ آتا ہے تو اسُ وقت میرا جسم کاپنے لگتا ہے اور مجہے کچھ سمجھ نہیں آتا اور غصہ قابو سے باہر ہو جاتا ہے؟ ہماری ہندکو زبان ہے تو میں نے ( ایک بار یہ کہا کہ میں تکو طلاق دینا اور دو بار یہ کہا طلاق دینا؟ کیا اس سے طلاق واقع ہو جاتی ہے؟ برائے مہربانی میری کیفیت کو نظر میں رکھتے ہوئے قرآن و سنت کی روشنی میں مسلہ کا حل نکالے۔ شکریہ

جواب:

جو صورت حال آپ نے بیان کی ہے اگر تو واقعی طلاق دیتے وقت آپ کی کیفیت ایسی تھی پھر تو طلاق واقع نہیں ہوئی، آپ بطور میاں بیوی زندگی گزار سکتے ہیں۔ لیکن آئندہ کے لیے احتیاط کریں جب بھی کوئی معاملہ خراب ہونے کا شک ہو تو اسے چھوڑ دیں تاکہ آپ کو غصہ نہ آئے۔ آپ کے اہل خانہ کو بھی چاہیے کہ ایسا ماحول نہ پیدا کریں جس پر آپ کو غصہ آئے، اگر معاملہ بگڑ بھی جائے تو اس کو طلاق کے علاوہ کسی اور طریقے سے حل کریں یہ مذاق نہ بنا لینا۔ اللہ تعالی کی بارگاہ سے دونوں میاں بیوی معافی مانگیں، توبہ کریں کہ آئندہ ایسی حرکت نہیں کریں گے۔

مزید مطالعہ کے لیے یہاں کلک کریں۔
کیا انتہائی غصہ میں طلاق واقع ہو جاتی ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2013-01-31


Your Comments