Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا حالت ڈپریشن میں دی ہوئی طلاق واقع ہو جاتی ہے؟

کیا حالت ڈپریشن میں دی ہوئی طلاق واقع ہو جاتی ہے؟

موضوع: مریض کی طلاق

سوال پوچھنے والے کا نام: وقار       مقام: کراچی

سوال نمبر 2359:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ میں ڈپریشن کا مریض ہوں اور مجھے غصہ بہت آتا ہے، جسم کاپنے لگتا ہے، اور سر میں درد ہوتا ہے؟ اس وقت مجھے پتہ نہیں چلتا کے یہ کیا ہوا اور کیوں ہوا؟ میں نے اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاقیں دی ہیں۔ الفاظ یہ بولے کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔ مفتی صاحب میری کیفیت کو نظر میں رکھتے ہوئے فتوی دیں؟ ہماری کئ بار لڑائی ہوئی یہ اور بعد میں ٹھیک ہو جاتا ہوں پھر سوچتا رہتا ہوں؟

جواب:

اگر تو واقعی غصہ اور ڈپریشن کی ایسی حالت میں آپ نے طلاق دی ہے کہ جس میں آپ کو اپنے اوپر کنٹرول نہیں تھا پھر تو طلاق واقع نہیں ہوئی، آپ بطور میاں بیوی رہ سکتے ہیں۔ لیکن اس کو مذاق نہ بنا لیں، جب آپ کو اور آپ کی بیوی کو معلوم ہے کہ آپ مریض ہیں تو ایسا ماحول ہی پیدا نہ ہونے دیں، خاص طور پر بیوی ایسے کام نہ کرے جن پر آپ کو غصہ آتا ہے یا آپ کو غصہ آ جائے، اس لیے اگر ایسا موقع آ جائے تو دونوں کوشش کریں کہ معاملہ ختم کیا جائے۔ لہذا آئندہ ایسی حرکت نہ کریں۔

مزید مطالعہ کے لیے یہاں کلک کریں
کیا انتہائی غصہ میں طلاق واقع ہو جاتی ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2013-05-23


Your Comments