Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - خاوند کے ناجائز تعلقات پر بیوی کو کیا کرنا چاہیے؟

خاوند کے ناجائز تعلقات پر بیوی کو کیا کرنا چاہیے؟

موضوع: معاملات  |  حقوق نسواں   |  نکاح

سوال پوچھنے والے کا نام: اقراء عدنان       مقام: دبئی، متحدہ عرب امارات

سوال نمبر 2357:
السلام و عليكم میرا سوال یہ ہے کہ میرے شوہر کے ایک عورت کے ساتھ تعلقات ہیں۔ روز گھر دیر سے آتے ہیں، جمعرات اور جمعہ کو بس 3 گھنٹے کے لیے آتے ہیں۔ 3 سال سے ایسے ہے ایک سال ہو گیا کمرے میں بھی نہیں آتے۔ صبح کے 3 سے 4 بجے تک عورت کے ساتھ باتیں کرتا رہتا ہے۔ میرا ایک بیٹا ہے، اس لیے میں صرف اپنے بچے کی خاطر رہنے پہ مجبور ہوں۔ میرا اس انسان سے بات کرنے کو دل نہیں کرتا نہ اس کا کام کرنے کو، کام میں کر دیتی ہوں مگر بولنا کم ہو گیا، مجھے گناہ ہوتا ہو گا، ایک سال ہو گیا مجھے بیوی والا حق بھی نہیں دے رہا ہے، آپ بتائیں میرے لیے کیا حکم ہے۔ جب لڑائی ہوتی ہے تو مجھ سے بدتمیزی بھی ہو جاتی ہے، مجھ سے برداشت نہیں‌ ہو رہا ہے، سب بڑے بہت سمجھا چکے ہیں لیکن نہیں سمجھتا ہے۔ اب میرے لیے کیا حکم ہے؟

جواب:

وہ ظالم انسان ہے جو آپ کے حقوق پورے نہیں کر رہا ہے۔ اللہ کے نزدیک اس کو سزا ملے گی۔ اب دو ہی راستے ہیں آپ کے لیے ایک یہ کہ بچے کی خاطر آپ اس کے ظلم وستم سہتی رہیں، اپنی زندگی گزار لیں۔ اس کا دوسرا حل یہ ہے کہ بذریعہ عدالت آپ تنسیخ نکاح کروا لیں۔ فیصلہ کے بعد عدت پوری کر کے کہیں اور شادی کر لیں یہ سب سے بہتر حل ہے اور آپ بھی کوئی غلط قدم اٹھانے سے بچ سکتی ہیں۔ یہ فیصلہ آپ نے خود کرنا ہے ہمیں تو معلوم نہیں آپ کی عمر کتنی ہے؟ اگر عمر زیادہ نہیں تو بہتر ہے کہ تنسیخ نکاح کروا کر کہیں اور شادی کر لیں تاکہ آپ کی اگلی زندگی اچھی گزر سکے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2013-01-01


Your Comments