حرام اور مردہ جانور کی کھال استعمال کرنا کیسا عمل ہے؟

سوال نمبر:2346
السلام علیکم کیا قرآن وسنت میں حرام اور مردہ جانور کی کھال استعمال کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ جیسے کہ سور کی کھال استعمال کرنا۔

  • سائل: عمران سعیدمقام: لاہور، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 09 مارچ 2013ء

زمرہ: حلال و حرام جانور

جواب:

قرآن پاک میں ہے:

قُل لاَّ أَجِدُ فِي مَا أُوْحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلاَّ أَن يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْـزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللّهِ بِهِ

(الانعام، 6 : 145)

آپ فرما دیں کہ میری طرف جو وحی بھیجی گئی ہے اس میں تو میں کسی (بھی) کھانے والے پر (ایسی چیز کو) جسے وہ کھاتا ہو حرام نہیں پاتا سوائے اس کے کہ وہ مُردار ہو یا بہتا ہوا خون ہو یا سؤر کا گوشت ہو کیو نکہ یہ ناپاک ہے یا نافرمانی کا جانور جس پر ذبح کے وقت غیر اﷲ کا نام بلند کیا گیا ہو۔

یہاں جو ضمیر (ہ) ہے اس کا مرجع خنزیر ہے یعنی خنزیر کی طرف لوٹتی ہے اس لیے یہ نرا یعنی مکمل نجس (پلید) ہے۔ اس کی کوئی بھی چیز قابل استعمال نہیں ہے۔ باقی جانوروں میں سے اگر کوئی مر بھی جائے تو اس کا چمڑا رنگ کر استعمال کر سکتے ہیں احادیث مبارکہ میں اجازت ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟