Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - حرام اور مردہ جانور کی کھال استعمال کرنا کیسا عمل ہے؟

حرام اور مردہ جانور کی کھال استعمال کرنا کیسا عمل ہے؟

موضوع: حلال اور حرام جانور   |  حرام

سوال پوچھنے والے کا نام: عمران سعید       مقام: لاہور، پاکستان

سوال نمبر 2346:
السلام علیکم کیا قرآن وسنت میں حرام اور مردہ جانور کی کھال استعمال کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ جیسے کہ سور کی کھال استعمال کرنا۔

جواب:

قرآن پاک میں ہے:

قُل لاَّ أَجِدُ فِي مَا أُوْحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلاَّ أَن يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْـزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللّهِ بِهِ

(الانعام، 6 : 145)

آپ فرما دیں کہ میری طرف جو وحی بھیجی گئی ہے اس میں تو میں کسی (بھی) کھانے والے پر (ایسی چیز کو) جسے وہ کھاتا ہو حرام نہیں پاتا سوائے اس کے کہ وہ مُردار ہو یا بہتا ہوا خون ہو یا سؤر کا گوشت ہو کیو نکہ یہ ناپاک ہے یا نافرمانی کا جانور جس پر ذبح کے وقت غیر اﷲ کا نام بلند کیا گیا ہو۔

یہاں جو ضمیر (ہ) ہے اس کا مرجع خنزیر ہے یعنی خنزیر کی طرف لوٹتی ہے اس لیے یہ نرا یعنی مکمل نجس (پلید) ہے۔ اس کی کوئی بھی چیز قابل استعمال نہیں ہے۔ باقی جانوروں میں سے اگر کوئی مر بھی جائے تو اس کا چمڑا رنگ کر استعمال کر سکتے ہیں احادیث مبارکہ میں اجازت ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2013-03-09


Your Comments