کیا انتہائی غصہ کی حالت میں طلاق واقع ہو جاتی ہے؟

سوال نمبر:2334
السلام علیکم میرا مسئلہ طلاق کے حوالے سے ہے میں نے اپنی بیوی (دوسری بیوی پہلی بیوی کے انتِقال کی وجہ سے دوسری شادی کی) کو انتہائی غصہ کی حالت میں طلاق دی، وہ اسطرح کہ میرا بیٹا جس کی عمر تقریبا 11 سال ہے سے کچھ نوک جھوک ہوئی۔ میں نے دونوں کی بات سن کر مسئلہ کو رفع دفع کر دیا اس کے بعد وہ خوب روئی۔ اس کے بعد میں نے اپنے بیٹےکو بلوایا کہ دیکھو امی رو رہی ہیں، ان کو خاموش کروا دو اور جب تک وہ خوش نہیں ہوتی تم سو نہیں سکتے، تقریبا ایک گھنٹے تک میں اور میرے چاروں بچے ان کو مناتے رہے، مگر جوں جوں ہم مناتے اِن کا غصہ بڑھتا ہی گیا اور نوبت خود کشی تک آ گئی اور انہوں نے کہا کہ میں خود کشی کر لوں گی۔ جس کی وجہ سے وہ باہر کی جانب بھاگنے لگی، تو میں نے اِن کے پیر پکڑ لیے۔ کچھ دیر کے بعد ہاتھ پکڑ لئے، بھائی کو بلوایا، ان کو بتایا کہ دیکھو یہ کیا کر رہی ہیں۔ بھائی نے کہا کہ چھوڑ دو، جیسے ہی میں ان کو چھوڑا وہ گھر سے باہر چلی گئی (جس کی وجہ سے میرا غصہ آسمان پر چلا گیا) یعنی اتنا غصہ کہ پہلے کبھی نہ آیا۔ اس غصے کی حالت میں میں کپکپا رہا تھا۔ ایسی حالت پہلے کبھی میری نہیں ہوئی، پھر ان کو پکڑ کر لائے، میں نے ان کو دھکے مار کر گھر میں داخل کیا اور اس کے بعد دو چار تھپڑ بھی رسید کئے۔ حالانکہ بھائی نے مھجے بہت روکنے کی کوشش کی نہیں کرو، آپ یقین کریں غصہ اتنا شدید کہ بس آواز آ رہی ہے اور کوئی مجھے طاقت سے پکڑا ہوا ہے، مگر مجھے بھائی کی شکل نظر نہیں آ رہی، سوائے ایک کے جس پر غصہ آ رہا ہے۔ اس سے پہلے میں نے کبھی بھی عورت پر ہاتھ نہیں اُٹھایا، اس کے بعد بھی میرا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا اور دو مرتبہ یہ جملہ دہرایا۔ میں نے آپ کو 3 طلاقیں دیں۔ میرے منہ سے جب یہ جملے ادا ہوئے تو میرا ارادہ اور نیت بھی طلاق دینے کی بھی نہیں تھی اور آج تک سوچتا ہوں کہ وہ جملہ میرے منہ سے کیسے ادا ہو گیا۔ مجھے آج بھی ایسا لگتا ہے کہ ان جملوں کو ادا کرنے کے لئے کسی نے میرا منہ استعمال کیا ہے۔ کیوں کہ میرا ذہن سن سا ہو گیا تھا۔ اب مجھے اس ضمن میں بتائیں کہ کیا یہ طلاق واقع ہو گئی۔ جب میرے منہ سے یہ جملے ادا ہو گئے، تو میں نے کچھ دیر بعد کہا کہ یہ کیا ہو گیا۔ میرا تعلق بھی دینی ماحول سے ہے۔ مجھے یہ بس یہ معلوم تھا کہ اس طرح کے جملے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ مگر یہ معلوم نہیں تھا کہ شدید غصے کی حالت میں نرمی ہے۔ مفتی صاحب میں آللہ کو حاضر ناضر جان کر یہ بات کہہ رہا ہوں، کہ یہ جملے میں نے ادا کیے ضرور ہیں مگر غصہ اتنا شدید تھا کہ مجھے اپنی زبان اور ذہن پر مکمل کنٹرول نہیں تھا، کیونکہ میری معلومات کے حساب سے یہ جملہ ایک مرتبہ نیت کے ساتھ کہا جائے تو طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ مگر جب یہ جملہ ادا کیا تو میں غصے کی وجہ سے کپکپا رہا تھا اور پھر خود بہ خود یہ جملے ادا ہو گئے اور پھر خود بہ خود یہ جملہ دوبارہ ادا ہو گیا اور نہ ہی میں نے پہلی مرتبہ ارادتاً یا نیتا یہ جملہ ادا کیا تھا اور نہ دوسری مرتبہ۔ میں یہ بھی بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ مجھے چالیس سال میں کبھی بھی اتنا تیز غصہ نہیں آیا کہ جیسا اُس وقت آیا تھا۔

  • سائل: محمد شفیقمقام: کراچی
  • تاریخ اشاعت: 03 دسمبر 2012ء

زمرہ: طلاق   |  معاملات

جواب:

اگر ابن عابدین کی بیان کردہ غصہ کی اقسام کے مطابق آپ کا غصہ شق نمبر 2 کے مطابق تھا، تو پھر کوئی بھی طلاق واقع نہیں ہوئی، کیوں کہ اس کیفیت میں انسان پر قانون لاگو نہیں ہوتا۔ لیکن آئندہ ایسی حرکت سے باز رہیں۔

مزید مطالعہ کے لیے یہاں کلک کریں
کیا انتہائی غصہ میں طلاق واقع ہو جاتی ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟