Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - قربانی دینے کے لحاظ سے گھر کا سربراہ کون بنتا ہے؟

قربانی دینے کے لحاظ سے گھر کا سربراہ کون بنتا ہے؟

موضوع: قربانی

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد عامر       مقام: راولپنڈی، پاکستان

سوال نمبر 2324:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ میرے والد وفات پا گئے تھے۔ میرا کوئی کاروبار یا کوئی سروس نہیں ہے۔ ہم نے ایک گھر کرایہ پر دیا ہے۔ میری ماں گھر کا کرایہ وصول کرتی ہیں اور گھر کے اخراجات بھی وہی برداشت کر رہی ہیں۔ اس لحاظ سے قربانی دینے کے حوالے سے گھر کا سربراہ کون بنتا ہے؟

جواب:

والد کی وفات کے بعد جو کچھ انہوں نے ترکہ میں چھوڑا، اس میں سے آٹھواں حصہ آپ کی والدہ کو ملے گا، پھر اگر آپ کے دادا دادی ہیں، تو چھٹا چھٹا حصہ کل مال سے ان دونوں کو ملے گا۔ باقی جو بچ جائے اس کو میت کے بیٹے بیٹیاں اس طرح تقسیم کریں کہ ہر لڑکے کو ہر لڑکی سے دو گنا حصہ ملے۔ مال کی تقسیم کے بعد دیکھیں کون کون صاحب نصاب بنتا ہے، جو صاحب نصاب بنتا ہے، اس پر قربانی واجب ہوتی ہے۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے آپ کی والدہ کو آٹھواں حصہ ملنے کے بعد وہ صاحب نصاب نہ ہوں اور آپ لوگ صاحب نصاب بنتے ہوں تو قربانی آپ پر واجب آئے گی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2012-12-13


Your Comments