Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - ماموں کا بھانجی کو بھاگا لے جانا کیسا عمل ہے؟

ماموں کا بھانجی کو بھاگا لے جانا کیسا عمل ہے؟

موضوع: محرمات نکاح   |  زنا و بدکاری

سوال پوچھنے والے کا نام: فضل الٰہی       مقام: جھنگ پنجاب پاکستان

سوال نمبر 2322:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ اگر ایک شادی شدہ ماموں اپنی حقیقی بھانجی کو گھر سے رات کے اندھیرے میں بھاگا کے لے جاتا ہے اور اس سے تین ماہ بعد برآمد بھی ہوتی ہے۔ یہ اللہ بہتر جانے کہ ماموں کس مقصد کے لئے اسکو 3 ماہ تک اپنے پاس رکھتا ہے اور اپنی بیوی کو بھی طلاق نہیں دی۔ جاننا یہ ہے کہ کیا اب اسکی بیوی کا نکاح اُس کے ساتھ باقی رہا ہے کہ نہیں؟ کیا اسکی بیوی پر اُس کا کوئی حق رہ گیا ہے کہ نہیں؟ براہ کرم اسکا جواب قرآن و حدیث کے حوالے سے جتنا جلدی ہو سکے بتا دیں۔

جواب:

ماموں کا بھانجی کے ساتھ نکاح تو کسی صورت میں ہو ہی نہیں سکتا، نص قرآنی سے حرام ہے۔ اگر وہ اس کے ساتھ غلط کاری کرتا ہے، تو اس کی دو صورتیں ہیں،

  • پہلی صورت یہ کہ وہ حرام سمجھ کر کرے، گناہگار تو ہو گا لیکن اس کی بیوی کے ساتھ اس کا نکاح برقرار رہے گا، یعنی نکاح قائم رہے گا۔
  • دوسری صورت یہ ہے کہ لوگوں کے منع کرنے کے باوجود بھی وہ اپنی بھانجی کے ساتھ یا کسی اور سے بھی غلط کاری کو جائز سمجھ کر کرتا ہے۔ ایسی صورت میں وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے گا اور اس کا نکاح بھی ختم ہو جائے گا۔

مزید مطالعہ کے لیے یہاں کلک کریں
محرمات سے زنا پر دلیل شرعی سے وضاحت کریں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2012-12-13


Your Comments