ماموں کا بھانجی کو بھاگا لے جانا کیسا عمل ہے؟

سوال نمبر:2322
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ اگر ایک شادی شدہ ماموں اپنی حقیقی بھانجی کو گھر سے رات کے اندھیرے میں بھاگا کے لے جاتا ہے اور اس سے تین ماہ بعد برآمد بھی ہوتی ہے۔ یہ اللہ بہتر جانے کہ ماموں کس مقصد کے لئے اسکو 3 ماہ تک اپنے پاس رکھتا ہے اور اپنی بیوی کو بھی طلاق نہیں دی۔ جاننا یہ ہے کہ کیا اب اسکی بیوی کا نکاح اُس کے ساتھ باقی رہا ہے کہ نہیں؟ کیا اسکی بیوی پر اُس کا کوئی حق رہ گیا ہے کہ نہیں؟ براہ کرم اسکا جواب قرآن و حدیث کے حوالے سے جتنا جلدی ہو سکے بتا دیں۔

  • سائل: فضل الٰہیمقام: جھنگ پنجاب پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 13 دسمبر 2012ء

زمرہ: محرمات نکاح   |  زنا و بدکاری

جواب:

ماموں کا بھانجی کے ساتھ نکاح تو کسی صورت میں ہو ہی نہیں سکتا، نص قرآنی سے حرام ہے۔ اگر وہ اس کے ساتھ غلط کاری کرتا ہے، تو اس کی دو صورتیں ہیں،

  • پہلی صورت یہ کہ وہ حرام سمجھ کر کرے، گناہگار تو ہو گا لیکن اس کی بیوی کے ساتھ اس کا نکاح برقرار رہے گا، یعنی نکاح قائم رہے گا۔
  • دوسری صورت یہ ہے کہ لوگوں کے منع کرنے کے باوجود بھی وہ اپنی بھانجی کے ساتھ یا کسی اور سے بھی غلط کاری کو جائز سمجھ کر کرتا ہے۔ ایسی صورت میں وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے گا اور اس کا نکاح بھی ختم ہو جائے گا۔

مزید مطالعہ کے لیے یہاں کلک کریں
محرمات سے زنا پر دلیل شرعی سے وضاحت کریں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟