Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - غصہ کی کس کیفیت میں طلاق واقع نہیں‌ ہوتی ہے؟

غصہ کی کس کیفیت میں طلاق واقع نہیں‌ ہوتی ہے؟

موضوع: معاملات  |  طلاق

سوال پوچھنے والے کا نام: خان منال       مقام: انڈیا

سوال نمبر 2308:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ میرے رشتہ دار میں، شوہر نے اپنی بیوی سے غصے میں کم سے کم 10 بار "میں تجھے طلاق دیتا ہوں" کے الفاظ بولے ہیں۔ اس وقت شوہر کی بہن، ماں، بھابھی اور ان کی بیٹی سامنے موجود تھی۔ ان دونوں کا نکاح دوسرے مسلک کی مسجد میں ہوا تھا لیکن ہم سنی ہیں۔ دوسرے مسلک کے مولانا صاحب سے اس مسئلہ کے بارے میں‌ پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ایک بکرا کفارہ دے دو اور نمازیں بتائی ہیں۔ آپ سے اس بارے میں‌ پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا طلاق واقع ہو چکی ہے یا پھر اس مسئلے کا کیا حل ہے؟

جواب:

اس کا کفارہ کوئی نہیں ہے نہ ہی بکرا دینے سے طلاق کا مسئلہ حل ہوتا ہے۔ باقی رہا نماز تو ہر مسلمان مرد وعورت پر فرض ہے، اس لیے نماز پنجگانہ باقاعدگی سے ادا کیا کریں۔ اگر تو آپ کا رشتہ دار وقت طلاق شدید غصے کی حالت میں تھا پھر تو ایک بھی طلاق واقع نہیں ہوئی۔ وہ بطور میاں بیوی زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ اگر غصہ زیادہ نہیں تھا پھر تین بار طلاق واقع ہو گئی باقی اس نے اللہ تعالی کی حدوں کا مذاق اڑایا۔ چونکہ حرام حلال کا مسئلہ ہے، آپ لوگ ایمانداری سے فیصلہ کر لیں کہ غصہ کس قدر تھا۔

مزید مطالعہ کے لیے یہاں کلک کریں
کیا شدید غصہ کی حالت میں طلاق ہو جاتی ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2012-12-13


Your Comments