Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - خاتم النبیّین سے کیا مراد ہے؟

خاتم النبیّین سے کیا مراد ہے؟

موضوع: ایمانیات

سوال نمبر 23:
خاتم النبیّین سے کیا مراد ہے؟

جواب:

خاتم النبیّین کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلسلہ نبوت ختم کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں یا بعد میں کوئی نیا نبی نہیں ہو سکتا۔ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

اَنَا خَاتَمَ النَّبِيِّيْنَ لَا نَبِيَ بَعْدِيْ.

ترمذی، 4 : 399، رقم : 2219

’’میں خاتم النبیّین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔‘‘

پس سلسلہ نبوت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ختم ہو چکا ہے اس لیے جو شخص حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی کو نبی مانے یا جائز جانے یا نبوت کا دعویٰ کرے وہ کافر ہے۔

نوٹ: تمام انبیاء کرام اور رسل عظام معصوم ہوتے ہیں یعنی ہر قسم کے کبیرہ اور صغیرہ گناہ سے پاک ہوتے ہیں۔ ہر نبی اور رسول اپنی اپنی امت سے ہر لحاظ سے بلند مرتبے والا ہوتا ہے اور ہمارے رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام انبیاء کرام اور جمیع مخلوقات سے افضل ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔


Your Comments