Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - قربانی کا گوشت ذخیرہ کرنے کے بارے میں کیا شرعی حکم ہے؟

قربانی کا گوشت ذخیرہ کرنے کے بارے میں کیا شرعی حکم ہے؟

موضوع: عبادات  |  قربانی

سوال پوچھنے والے کا نام: منہاجین       مقام: منہاج القرآن پونچھ جموں و کشمیر انڈیا

سوال نمبر 2297:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ کچھ لوگوں کے گھروں میں قُربانی کا گوشت اتنا اکھٹا ہو جاتا ہے کہ وہ سُکھا سُکھا کر رکھتے ہیں، جسے وہ بعد میں کھاتے ہیں یا پھر کچھ لوگوں کے ہاں تو گوشت خراب بھی ہو جاتا ہے، جبکہ بعض گھروں میں تو عید کے روز بھی گوشت نہیں بنتا۔ اس کے متعلق قوم کی رہنمائی فرمائیں۔

جواب:

افضل عمل تو یہ ہے کہ قربانی کرنے والا گوشت کے تین حصے بنا کر ایک حصہ صدقہ کر دے یعنی غریبوں کو دے دے، ایک حصہ دوستوں، رشتہ داروں میں تقسیم کر دے اور ایک حصہ اپنے پاس رکھ لے۔ اگر خود زیادہ ضرورت ہو تو زیادہ بھی رکھ سکتا ہے اور ضرورت کم ہو تو زیادہ صدقہ بھی کر سکتا ہے۔ بلکہ ہونا بھی یہی چاہیے کہ جتنا ہو سکے غریب غرباء کو گوشت دیا جائے۔ چونکہ کہ امیر لوگ تو سارا سال بھی کھاتے رہتے ہیں، لیکن غریب غرباء جو سارا سال ترستے رہتے ہیں، وہ بھی عید کے ایام میں پیٹ بھر کر کھائیں گے تو اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل ہو گی۔

لہذا کھانے پینے والی اشیاء ضائع کرنا جائز نہیں ہے۔ اس لیے بہتر عمل یہ ہے کہ اگر کسی کے پاس گوشت ضرورت سے زیادہ جمع ہو جائے تو اس کو چاہیے کہ ضرورت مند لوگوں میں تقسیم کر دے تاکہ اللہ تعالی کی نعمتوں کی بے ادبی ہونے سے بچ جائے اور گوشت ضائع ہونے سے بھی بچ جائے۔ اللہ تعالی صاحب استطاعت لوگوں کو غریبوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2012-11-19


Your Comments