کیا خاوند کی اجازت کے بغیر خلع ہو سکتی ہے؟

سوال نمبر:2260
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ میں کویت میں ہوتا ہوں اور بیوی پاکستان میں ہوتی ہے۔ دو سال ہو گئے ہیں میں‌ بیوی سے نہیں‌ ملا ہوں لیکن فون پر روزانہ بات چیت ہوتی ہے۔ دو سال پہلے بیوی سے کسی بات پر جھگڑا ہوا اور اس نے خلع لینے کا فیصلہ کیا لیکن بات آئی گئی ہو گئی۔ ہم نارمل روٹین میں بات چیت کرتے رہے۔ لیکن اب میں‌ نے پاکستان آنے کا پلان کیا تو بیوی نے کہا کہ اس سے بہت بڑی غلطی ہو گئی کہ اس نے ایک سال پہلے عدالت سے خلع لیا اور عدالت نے فیصلہ اس کے حق میں کر دیا ۔ لیکن اس بات کا کسی کو نہیں پتہ ہے اور مجھے بھی ابھی اس نے بتایا ہے اور وہ یہ تسلیم کرتی ہے کہ جذباتی فیصلہ کر چکی ہے اور پچتا رہی ہے۔ وکیل سے میری بیوی نے بات کی اور بہت سی باتیں وکیل نے خود بنا کر خلع کا کیس کر دیا اور عدالت نے لیڑ جاری کر کے مجھے بلایا لیکن جس ایڈریس پر وکیل نے خط بیجھے وہ میرا ایڈریس نہیں‌ تھا اور نہ مجھے پتہ تھا کہ ایسا ہو رہا ہے اور فیصلہ میری بیوی کے حق میں‌ کر دیا۔ میری بیوی کو بھی نہیں‌ پتہ تھا کہ یہ اتنا سنجیدہ ہو گا کیونکہ فیصلہ اس نے تین مہینوں میں‌ کر دیا اور گواہ میں صرف میری بیوی کہ بھائی کی شناختی کارڈ کی کاپی ہے اس کو بھی نہیں‌ پتہ اور نہ ہی اس نے بطور گواہ دستخط کیے یہ سب وکیل نے کیا۔ بیوی نے ڈر کے مارے کسی سے بات نہیں‌ کی اور نہ ہی مجھے بتایا لیکن اب میں‌ آنے والا ہوں تو یہ بات اس نے مجھ سے کی۔ برائے مہربانی میرے رہنمائی فرمائیں کہ کیا اب بھی وہ میرے نکاح میں‌ ہے؟ یہ سب میری بیوی سے جذباتی فیصلہ ہوا دو بچے ہیں‌ بیٹا سات سال کا اور بیٹی پانچ سال کی۔ میرا گھر خراب ہو رہا ہے مجھے بتائیں کہ کیا اب وہ میرے بیوی نہیں‌ رہی، اولاد پر بہت برا اثر ہو گا لیکن ہم دونوں بھی نہیں‌ چاہتے کہ ہم الگ ہوں۔

  • سائل: کاشفمقام: کویت
  • تاریخ اشاعت: 18 اکتوبر 2012ء

زمرہ: خلع کے احکام   |  معاملات

جواب:

1۔ خلع خاوند کی اجازت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔

2۔ اگر خاوند حقوق پورے نہ کر سکے اور نہ ہی طلاق دے تو اس صورت میں عورت تنسیخ نکاح کے لیے عدالت میں دعوی کر سکتی ہے۔ پھر عدالت خاوند کو نوٹس بھیجتی ہے۔ اگر خاوند پر لگائے گئے اعتراضات درست ہوں تو عدالت تنسیخ نکاح کر سکتی ہے یا خاوند اطلاع ملنے کے باوجود عدالت میں پیش نہ ہو تو پھر بھی عدالت کو حق ہے کہ ان کا نکاح ختم کر سکتی ہے اس کو عدالتی تنسیخ کہتے ہیں۔

اس کے برعکس اگر دعوی میں لکھے گئے اعتراضات درست نہ ہوں تو عدالت تنسیخ نکاح نہیں کر سکتی اگر کرے گی تو درست نہیں ہو گا۔

اگر عدالت میں جو دعوی کیا گیا اس میں لگائے گئے اعتراضات درست ہیں تو آپ دونوں کا نکاح ختم ہو چکا ہے۔ اگر دوبارہ دونوں رضامندی سے اکھٹے رہنا چاہتے ہیں تو نئے حق مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر لیں۔ اب آپ کے پاس زندگی میں دو دفعہ طلاق کا حق رہ جائے گا۔ اس لیے زندگی میں جب بھی دو مرتبہ طلاق دی پھر آپ کے لیے یہ عورت جائز نہیں رہے گی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟