کیا گھوڑا حلال جانور ہے؟

سوال نمبر:2240
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ کیا گھوڑا حلال جانور ہے؟

  • سائل: محمد ارشد عباسمقام: سرگودھا
  • تاریخ اشاعت: 15 جون 2013ء

زمرہ: حلال و حرام جانور

جواب:

کیا گھوڑا حلال جانور ہے؟

بہت سے شرعی مسائل لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ مقررین میں سے بھاری اکثریت علم قرآن و حدیث سے لا بلد ہوتی ہے۔ ان کی بے مغز تقاریر میں لطائف و ظرائف کی بھر مار۔ من گھڑت مسلکی مسائل پر مغز ماری اور مذہبی تعصب و تشتت و افتراق کے علاوہ کوئی موضوع ہوتا ہی نہیں۔ علمی و عوامی مسائل کا نہ ادراک نہ قرآن و سنت کا علم و مطالعہ۔ ورنہ وقتاً فوقتاً ان مسائل کو سمجھا اور بیان کیا جاتا تو عوام کو اس قدر تعجب و تذبذب نہ ہوتا۔ قصور عوام کا نہیں ہم لوگوں کا ہے بہر حال میں نے اپنی علمی بے مائیگی کے باوجود مقدور بھر کوشش کی ہے کہ مسئلہ خوب کھل کر سامنے آ جائے۔

حرمت الخیل کی بحث

يکره لحم الفرس عند أبی حنيفة رحمه اﷲ وهو قول مالک وقال أبو يوسف ومحمد والشافعي رحمهم اﷲ لا بأس بأکله.

’’امام ابوحنیفہ اور امام مالک رحمہما اﷲ کے نزدیک گھوڑے کا گوشت مکروہ ہے، ابو یوسف امام محمد اور شافعی رحمہم اﷲ کے نزدیک اس کا گوشت کھانے میں حرج نہیں ہے‘‘۔

المرغينانی، الهداية شرح البداية، 4 : 68، المکتبة الاسلامية

جائز کہنے والوں کی دلیل

عَنْ أسْمَاءَ قَالَتْ نَحَرْنَا فَرَسًا عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم فَأکَلْنَاهُ.

’’حضرت اسماء رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک زمانہ میں ہم نے گھوڑا ذبح کیا اور پھر ہم نے اسے کھایا۔‘‘

  1. بخاری، الصحيح، 5 : 2101، رقم : 5200، دار ابن کثير اليمامة بيروت

  2. مسلم، الصحيح، 3 : 1541، رقم : 1942، دار احياء التراث العربی بيروت

  3. أحمد بن حنبل، المسند، 6 : 346، رقم : 26978، مؤسسة قرطبة مصر

  4. نسائی، السنن الکبری، 4 : 152، رقم : 6644، دار الکتب العلمية بيروت

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اﷲِ رضي اﷲ عنهما قَالَ نَهَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأهْلِيَّةِ وَرَخَّصَ فِي الْخَيْلِ.

’’حضرت جابر بن عبداللہ رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کے روز پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا اور گھوڑے کے گوشت کی رخصت فرمائی۔‘‘

  1. بخاری، الصحيح، 4 : 1544، رقم : 3982

  2. مسلم، الصحيح، 3 : 1541، رقم : 1941

ناجائز کہنے والوں کی دلیل

عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ أنَّ رَسُولَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم نَهَی عَنْ أکْلِ لُحُومِ الْخَيْلِ وَالْبِغَالِ وَالْحَمِيرِ.

’’حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھوڑے، خچر اور گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے‘‘۔

  1. أبو داؤد، السنن، 3 : 352، رقم : 3790، دار الفکر

  2. نسائی، السنن الکبری، 3 : 159، 4844

امام ابو حنیفہ کا صحیح مسلک

وعن أنس بن مالک رضی اﷲ تعالی عنه قال أکلنا لحم فرس علی عهد رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم و عن الحريث قال کنا اذا نتجت فرس أخذنا فلوا ذبحناه و قلنا الامر قريب فبلغ ذلک عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالی عنه فکتب الينا أن لا تفعلوا فان في الامر تراخی و بهذين الحديثين يستدل من يرخص فی لحم الخيل فانهم کانوا يذبحونه لمنفة الا کل وهو قول أبی يوسف و محمد و الشافعی رحمهم اﷲ تعالي وأما أبو حنيفة رحمه اﷲ تعالی فانه کان يکره الحم الخيل فظاهر اللفظ فی کتاب الصيد يدل علی أن الکراهة للتنزية فانه قال رخص بعض العلماء رحمهم اﷲ فی لحم الخيل يدل علی أن کراهة التحريم فقد روی أن أبا يوسف رحمه اﷲ تعالي قال لأبی حنيفة رحمه اﷲ اذا قلت فی شئی أکرهه فما رأيک فيه قال التحريم ثم من أباحه استدل بالتعامل الظاهر ببيع لحم الخيل فی الاسواق من غير نکير منکر ولان سؤره طاهر علی الاطلاق وبوله بمنزلة بول ما يؤکل لحمه فعرفنا أنه مأکول کالانعام وان روی فيه نهي فلان الخيل کانت قليلة فيهم وکان سلاحاً يحتا جون اليه فی الحرب فلهذا نهاهم عن أکله لا لحرمته وحجة أبی حنيفة رحمه اﷲ تعالی في ذلک قوله تعالی والخيل والبغال والحمير لترکبوها وزينه الآية فقد من اﷲ تعالی علی عباده بما جعل لهم من منفعة الرکوب والزينة فی الخيل ولو کان مأ کلو لا لکان الولی بيان منفعة الأکل لانه أعظم وجوه المنفعة وبه بقاء النفوس ولا يليق بحکمة الحکيم ترک أعظم وجوه المنفعة عند اظهار المنة وذکر ما دون ذلک.

حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے، کہ ہم نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ میں گھوڑے کا گوشت کھایا ہے‘‘۔

حضرت حریث، رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ ہم میں سے جب کسی کی گھوڑی جنتی ہم اسے ذبح کر دیتے اور کہتے معاملہ (حکمت کے) قریب ہے۔ اس کی خبر حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کو ہوئی تو آپ نے ہمیں حکم لکھ بھیجا۔ ایسا مت کرو !۔

اس معاملہ میں نرمی و تاخیر ہے۔ ان دو حدیثوں سے وہ ائمہ استدلال کرتے ہیں جو گھوڑے کے گوشت کو حلال قرارد دیتے ہیں۔ کہ صحابہ کرام گھوڑا کھانے کے لیے ذبح کرتے تھے۔ یہی قول ہے امام ابو یوسف، امام محمد اور امام شافعی رحمھم اﷲ کا ہے۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اﷲ تو وہ گھوڑے کے گوشت کو مکروہ قرار دیتے تھے۔ کتاب الصید میں بظاہر عبارت مکروہ تنزیہی پر دلالت کرتی ہے۔ آپ نے فرمایا بعض علماء رحمھم اﷲ نے گھوڑے کا گوشت کھانے کی اجازت دی ہے، رہا میں تو مجھے یہ پسند نہیں۔ اور الجامع الصغیر میں جو امام ابو حنیفہ رحمہ اﷲ کا قول ہے کہ میں گھوڑے کا گوشت کھانے کو مکروہ سمجھتا ہوں، اس بات کی دلیل ہے کہ مکروہ تحریمہ مراد ہے چنانچہ امام یوسف رحمہ اﷲ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اﷲ سے سوال کیا، جب کسی چیز کو مکروہ قرار دیتے ہیں تو کونسی کراہت مراد ہوتی ہے؟ فرمایا تحریمی۔ حلال قرار دینے والوں کی دلیل ظاہری لین دین ہے کہ بازاروں میں گھوڑے کا گوشت بغیر کسی اختلاف و انکار کے فروخت ہوتا ہے اور اس لیے کہ گھوڑے کا جوٹھا مطلقاً پاک ہے۔ اور اس کا پیشاب ان جانوروں کے پیشاب کے حکم میں ہے جن کا گوشت کھایا جاتا ہے (لہٰذا اس کا گوشت بھی انہی کے گوشت کی طرح پاک ہے۔ حلال ہے) اس سے ہم معلوم ہو گیا کہ اس کا گوشت بھی باقی حلال جانوروں کے گوشت کی طرح کھایا جائے گا۔ اگرچہ اس میں ممانعت آئی ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ گھوڑوں کی تعداد عربوں کے ہاں کم تھی۔ اور جنگوں میں بطور سامان حرب (اسلحہ) اسکی ضرورت تھی۔ اسی لیے انہیں اس کا گوشت کھانے سے انہیں منع فرمایا جیسے ہمارے ہاں منگل، بدھ کو گوشت کا ناغہ ہوتا ہے۔ (وجہ حرمت نہیں جانوروں کی قلت ہے) امام ابو حینفہ رحمہ اﷲ کی دلیل حرمت فرمان باری تعالیٰ ہے : ’’گھوڑا، خچر اور گدھا تمہاری سواری اور زینت کے لیے پیدا کیے گئے۔۔۔ الخ سو اﷲ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر گھوڑے پیدا کرنے پر دو احسانات جتائے ہیں۔ (1) سورای کا فائدہ۔ (2) زینت۔ اگر اس کا گوشت کھانا جائز ہوتا، تو کھانے کی منفعت کو ذکر کرنا زیادہ اہمیت کا حاصل تھا۔ کہ یہ سبب سے بڑی منفعت ہے اور اسی سے جانوں کی بقاء ہے۔ اور حکیم کی حکمت کے شایان شان نہیں احساں جتاتے وقت بڑی منفعت کو چھوڑ کر چھوٹی کا ذکر کرے۔

  1. شمس الدین السرخسی، المبسوط، 11 : 233، 234، دار المعرفۃ بیروت
  2. ابن رشد، البدایۃ المجتہد، 1 : 344، طبع بیروت

صاحب فتح القدیر فرماتے ہیں :

ومبنی إختلاف المشائخ في قول أبي حنيفة علی اختلاف اللفظ المروی عنه فانه روي عنه رخص بعض العلماء في لحم الخيل فأما أنا فلا يعجبنی أکله وهذا يلوح الی التنزيه. وروي عنه أنه قال أکرهه وهو يدل علی التحريم علی ما روينا عن أبو يوسف.

’’امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے قول میں مشائخ کے اختلاف کی بنیاد وہ لفظ ہے جو آپ سے منقول ہے، ان سے ایک روایت یوں ہے۔ بعض علماء نے گھوڑے کے گوشت میں اجازت دی ہے، رہا میں تو مجھے اس کا کھانا پسند نہیں۔ یہ قول تو مکروہ تنزیہی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اور امام صاحب سے دوسری روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا، میں اسے ناپسند کرتا ہوں۔ یہ دلیل مکروہ تحریمی کی ہے۔ جیسا کہ ہم نے امام ابو یوسف رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے‘‘۔

ابن همام، فتح القدير، 8 : 122، النوريه رضوية سکهر

والخيل و عند هما والشافعي تحل قيل اِن أباحنفيه رجع عن حرمته قبل موته بثلاثة أيام و عليه الفتوي ولا باس بلبنها.

’’گھوڑا، صاحبین یعنی امام ابو یوسف اور امام محمد رضی اللہ عنہ اور امام شافعی کے نزدیک حلال ہے۔ کہا گیا ہے کہ امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات سے تین دن پہلے گھوڑے کی حرمت سے رجوع کر لیا تھا اور اسی پر فتویٰ ہے اور گھوڑی کا دودھ حلال ہے‘‘۔

حصفکی، الدرالمختار، 6 : 305، دار الفکر بيروت

اس کی شرح میں علامہ ابن عابدین شامی فرماتے ہیں کہ ظاہر الروایہ میں گھوڑے کے جوٹھے کو حلال کہا گیا ہے غایۃ البیان میں اس کا جواب یہ دیا گیا ہے :

بأن حرمة الأ کل للاحترام من حيث اِنه يقع به أرهاب العد ولا للنجاسة فلا يوجب نجاسة السؤر کما في الادمي.

’’گھوڑے کا گوشت اس کی تنظیم کی وجہ سے حرام ہے کہ اس کی وجہ سے دشمن کو مرعوب کیا جاتا ہے، پلید ہونے کی وجہ سے نہیں، پس یہ حرمت اس کے جوٹھے کی نجاست کو ثابت نہیں کرتی جیسے آدمی (کا گوشت اس کی تعظیم کی وجہ سے حرام ہے نہ کہ پلید ہونے کی وجہ سے، اور اس کا جوٹھا حلال ہے الخ۔ علامہ شامی فرماتے ہیں:

فهو مکروه کراهه تنزيه.

پس (گھوڑے کا گوشت) مکروہ تنزیہ ہے۔

وهو ظاهر الروايه.

ظاہر روایت میں یہی ہے جیسا کہ کفایہ البیہقی میں ہے یہی صحیح ہے جیسا کہ فخر الاسلام نے وغیرہ فرمایا، قہستانی پھر فخر الاسلام نے کراہت تحریمی کا قول خلاصہ۔۔۔ ہدایہ، محیط، المغنی، قاضیحان، العمادی وغیرہ سے نقل کیا اور متون کتب فقہ میں یہی لکھا ہے۔ امام ابو سعود نے آمادہ کیا کہ پہلے قول (کراہت تنزیہہ) کے لحاظ سے امام صاحب اور صاحبین میں کوئی اختلاف نہیں رہتا، اس لئے کہ گو صاحبین نے حلال ہونے کا قول کیا ہے مگر کراہت تنزیہی کے ساتھ۔

اسی لیے ہدایہ میں فرمایا، گھوڑی کا دودھ پینے میں حرج نہیں۔

لانه ليس في شربه تقليل آلة الجهاد وسماه في کتاب الحدود مباحا.

’’کیونکہ دودھ پینے سے آلہ جہاد کم نہیں ہو جاتا اور کتاب الحدود میں صاحب ہدایہ نے اسے جائز قرار دیا ہے‘‘۔

حاشية ابن عابدين، شامی، 6 : 306، دار الفکر بيروت

فتاویٰ عالمگیری میں ہے :

يکره لحم الخيل فی قول أبی حنيفة خلافا لصاحبيه واختلف المشائخ فی تفسير الکراهة والصحيح انه أراد بها التحريم ولبنه کلحمه وقال الامام السرخي ما قاله ابو حنيفه رحمه اﷲ تعالی أحوط وما قالا أوسع.

’’امام ابوحنیفہ کے قول کے مطابق گھوڑی کا گوشت مکروہ ہے۔ لیکن ان کے صاحبین کا اس میں اختلاف ہے۔ مشائخ نے کراہت میں اختلاف کیا ہے، صحیح یہ ہے کہ ان کے نزدیک کراہت تحریمہ مراد ہے اور گھوڑی کا دودھ اس کے گوشت کی طرح ہے، امام سرخسی نے کہا، ابو حنیفہ کی بات میں زیادہ احتیاط ہے اور صاحبین (ابو یوسف و امام محمد) کی بات میں گنجائش و وسعت زیادہ ہے‘‘۔

شيخ نظام الدين و جماعة علماء هند، عالمگيری، 5 : 290، بيروت

خلاصہ کلام

خلاصہ کلام یہ ہے کہ گھوڑے کا گوشت کھانے کی جو حدیث پاک میں ممانعت ہے وہ صاحبین امام ابوحنیفہ کے آخری قول اور امام شافعی رضی اللہ عنہ کے نزدیک حرام ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لئے ہے کہ گھوڑا جہاد کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس کو عام حلال جانوروں کی طرح ذبح کرنے سے آلہ جہاد میں کمی پیدا ہوگی، جو حکمت عملی کے خلاف ہے، اس کا جوٹھا اسی طرح پاک ہے جیسے انسان کا۔ علامہ ابن عابدین شامی کی تحقیق کے مطابق امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ نے وفات سے تین دن پہلے گھوڑے کے گوشت کی حرمت سے رجوع کر لیا تھا اور اسی پر فتوی ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟