کیا ایک سال سے کم صحت مند بکرے کی قربانی دینا جائز ہے؟

سوال نمبر:2183
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ اگر قربانی کے بکرے کی عمر ایک سال سے پندرہ دن کم ہو لیکن صحت مند ہے۔ کیا اس کی قربانی دی جا سکتی ہے؟

  • سائل: محمد یاسینمقام: سیالکوٹ
  • تاریخ اشاعت: 01 اکتوبر 2012ء

زمرہ: قربانی کے احکام و مسائل

جواب:

بکرا اسلامی مہینوں کے مطابق پورے ایک سال کا ہونا لازمی ہے۔ سال سے کم ہو تو قربانی کے قابل نہیں ہے۔ دنبہ یا بھیڑ کا بچہ صحت مند، موٹا تازہ ہو تو چھ ماہ میں بھی اس کی قربانی دی جا سکتی ہے۔

فقہائے کرام فرماتے ہیں:

اونٹ پانچ سال کا، گائے، بھینس دو سال کی، بکری، بھیڑ ایک سال کی۔ یہ عمر کم از کم حد ہے۔ اس سے کم عمر کے جانور کی قربانی جائز نہیں۔ زیادہ عمر ہو تو بہتر ہے۔ ہاں دنبہ یا بھیڑ کا چھ ماہ کا بچہ اگر اتنا موٹا تازہ ہو کہ دیکھنے میں سال بھر کا نظر آئے تو اس کی قربانی بھی جائز ہے۔

  1. علامه علاء الدين محمد بن علی بن محمد حصکفی، الدر المختار، 6 : 322، طبع کراچی.

  2. علامه ابو الحسن علی بن ابی بکر مرغينانی، الهداية، 4 : 449، طبع کراچی.

  3. الشيخ نظام الدين وجماعة من علماء الهند، الفتاوی الهندية، 1 : 374، دارالفکر.

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟