کسی عورت سے جسمانی تعلق کے بعد کیا اس کی بیٹی سے نکاح کرنا جائز ہے؟

سوال نمبر:2181
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ اگر کسی عورت کے ساتھ بغیر نکاح کہ جسمانی تعلق رہا ہو تو کیا وہی شخص اسی عورت کی بیٹی سے نکاح کر سکتا ہے؟

  • سائل: ریحانمقام: لاہور، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 01 اکتوبر 2012ء

زمرہ: ایمانیات  |  محرمات نکاح

جواب:

جو شخص کسی عورت سے بدکاری کرے، اس پر اس عورت کے اصول وفروع یعنی ماں بیٹی، نواسی وغیرہ حرام ہو جاتے ہیں۔ لہذا اس بدکار عورت کے متعلق اگر یہ سچ ہے کہ مذکورہ شخص کے ناجائز تعلقات ہیں تو یقینا اس عورت کے اصول وفروع یعنی ماں، نانی اور بیٹی وغیرہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس عورت پر حرام ہو چکے۔

من مس امراة بشهوة حرمت عليه امها وابنتها

  1. هدايه، 2 : 277

  2. رد المختار، للشامی، 3 : 32

  3. عالمگيری، 1 : 274

جس مرد نے کسی عورت کو شہوت کے ساتھ ہاتھ (بھی) لگا لیا، اس پر اس عورت کی ماں اور بیٹی حرام ہو گئی۔

اندریں حالات اس عورت کی بیٹی کا اس زانی سے نکاح ہرگز جائز نہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟