Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - قبر کے اوپر قبر بنانا کیسا ہے؟

قبر کے اوپر قبر بنانا کیسا ہے؟

موضوع: متفرق مسائل

سوال پوچھنے والے کا نام: رضا       مقام: لاہور، پاکستان

سوال نمبر 2154:
السلام علیکم کیا قبر کے اوپر مکمل چھت ڈال کر اس کے اوپر ایک اور قبر بنا سکتے ہیں؟

جواب:

بحالت مجبوری قبر کے اوپر قبر بنا سکتے ہیں مثلا جگہ کی کمی ہو یا پھر کوئی ہنگامی صورت ہو۔ کیونکہ احادیث مبارکہ میں ہے کہ شہداء احد کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک قبر میں دو دو، تین تین کو جمع کیا۔ اس لیے ایک قبر کے اوپر دوسری قبر بنانا بھی جائز ہے۔ اس حوالے سے متعدد روایات ہیں لیکن یہاں اختصار کی خاطر بخاری شریف کی روایت درج ذیل ہے :

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:

ان النبی صلی الله عليه وآله وسلم کان يجمع بين الرجلين من قتلی احد.

کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہداء احد میں سے دفن دو مردوں کو (ایک قبر میں) جمع کرتے تھے۔

بخاری، الصحيح، 1 : 451 کتاب الجنائز، باب : دفن الرجلين والثلاثة فی قبر، رقم : 1280، دار ابن کثير اليمامة، بيروت

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2012-10-11


Your Comments