Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - اگر ذبح کے وقت تکبیر کہنا بھول جائے تو کیا ذبیحہ حلال ہو گا؟

اگر ذبح کے وقت تکبیر کہنا بھول جائے تو کیا ذبیحہ حلال ہو گا؟

موضوع: فقہ اور اصول فقہ  |  ذبح   |  حلال اور حرام جانور

سوال پوچھنے والے کا نام: محمود امجد عاربی       مقام: ملتان، پاکستان

سوال نمبر 2152:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی بندہ ذبح کرتے وقت تکبیر کہنا بھول جائے تو کیا وہ جانور حلال ہو گا؟ نیز ذبح کرنے کی فقہی حیثیت کیا ہے؟

جواب:

اگر واقعی ذبح کرنے والا تکبیر کہنا بھول جائے تو ذبیحہ حلال ہو گا۔ جان بوجھ کر نہ پڑھے تو جانور حرام ہو جائے گا۔ ذبح کیے بغیر جو جانور مر جائے وہ قطعی حرام ہے۔

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالْدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللّهِ بِهِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلاَّ مَا ذَكَّيْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَأَن تَسْتَقْسِمُواْ بِالْأَزْلاَمِ ذَلِكُمْ فِسْقٌ.

(المائدة، 5 : 3)

تم پر مردار (یعنی بغیر شرعی ذبح کے مرنے والا جانور) حرام کر دیا گیا ہے اور (بہایا ہوا) خون اور سؤر کا گوشت اور وہ (جانور) جس پر ذبح کے وقت غیر اﷲ کا نام پکارا گیا ہو اور گلا گھٹ کر مرا ہوا (جانور) اور (دھار دار آلے کے بغیر کسی چیز کی) ضرب سے مرا ہوا اور اوپر سے گر کر مرا ہوا اور (کسی جانور کے) سینگ مارنے سے مرا ہوا اور وہ (جانور) جسے درندے نے پھاڑ کھایا ہو سوائے اس کے جسے (مرنے سے پہلے) تم نے ذبح کر لیا، اور (وہ جانور بھی حرام ہے) جو باطل معبودوں کے تھانوں (یعنی بتوں کے لئے مخصوص کی گئی قربان گاہوں) پر ذبح کیا گیا ہو اور یہ (بھی حرام ہے) کہ تم پانسوں (یعنی فال کے تیروں) کے ذریعے قسمت کا حال معلوم کرو (یا حصے تقسیم کرو)، یہ سب کام گناہ ہیں۔

سائنسی نقطہ نظر سے بھی یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ ذبح کرنے سے جانور کے جسم سے تمام خطرناک جراثیم نکل جاتے ہیں جو انسان کی صحت کے لیے مضر ہوتے ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2012-10-01


Your Comments