Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا ماں کسی خطرے کی وجہ سے نماز توڑ کر بچے کو پکڑ سکتی ہے؟

کیا ماں کسی خطرے کی وجہ سے نماز توڑ کر بچے کو پکڑ سکتی ہے؟

موضوع: عبادات  |  نماز

سوال پوچھنے والے کا نام: فاریہ       مقام: ہانگ کانگ

سوال نمبر 2133:
السلام و علیکم میری بیٹی دس ماہ کی ہے جب میں نماز پڑھتی ہوں وہ میرے سامنے آ کے بیٹھ جاتی ہے، میں اس کو ہٹا کے سجدہ کرتی ہوں۔ کیا ایسے نماز ہو جائے گی اور کوئی ساتھ نہیں رہتا جو اس وقت بچی کو سنبھالے اور اگر اللہ نہ کرے بچہ گرنے لگے تو کیا ماں نماز توڑ کے بچے کو پکڑ سکتی ہے یا اچانک ماں بے ساختہ ڈر کے دیکھ لےنماز توڑے بنا اور فورا پلٹ آئےکے نماز جاری رکھےتو کیا نماز ہو جائے گی؟

جواب:

اگر بچی سامنے آ کے بیٹھ جائے تو اس کو ہٹا کر سجدہ کر لینے سے نماز نہیں ٹوٹے گی لیکن احتیاط کریں کہ اس عمل کو معمول نہ بنائیں۔ بچی کو نماز پڑھنے سے پہلے کسی محفوظ جگہ بیٹھا دیں تاکہ ایسا ڈر خوف نماز کے دوران محسوس نہ ہو۔ اگر بچے کا خطرناک جگہ مثلا پانی، آگ، بجلی وغیرہ کی طرف جانے کا خطرہ ہو تو فورا نماز توڑ کر اس کو بچائیں بعد میں نماز نئے سرے سے پڑھ لیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2012-10-11


Your Comments