Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - انتقال میت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

انتقال میت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

موضوع: معاملات  |  فقہ اور اصول فقہ  |  احکام میت   |  غسل ،کفن، دفن

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد عارف       مقام: اٹک

سوال نمبر 2127:
السلام علیکم جناب مفتی صاحب آپ سے سوال یہ پوچھنا ہے کہ کیا کسی بزرگ کی قبر کو وسیع کرنے اور اس کے سلسلہ طریقت کو پھیلانے کیلئے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا جائز ہے یا نہیں؟ برائے مہربانی پختہ دلائل کے ساتھ جواب دیں۔ کیونکہ نہ تو ان بزرگوں کی وصیت تھی اور نہ کوئی شرعی عذر موجود ہے۔ ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب:

وعلیکم السلام بغیر کسی شرعی عذر کے میت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا جائز نہیں ہے۔ مستحب یہ ہے کہ جہاں مرے وہیں دفن کیا جائے لیکن دفن سے پہلے میت کو ایک شہر سے دوسرے شہر (ایک جگہ سے دوسری جگہ) منتقل کرنا جائز ہے بشرطیکہ جسم کے خراب ہونے اور بدبودار ہونے کا خطرہ نہ ہو لیکن دفن کرنے کے بعد اسے نکالنا اور منتقل کرنا دو صورتوں میں جائز ہے۔

اذا کانت الارض التی دفن فيها مغضوبة او اخذت بعد دفنه بشفعة.

جب زمین غصب شدہ ہے یا دفن کے بعد اسے کسی نے حق شفعہء کی بناء پر لے لیا درج بالا دو صورتوں کے علاوہ انتقال میت جائز نہیں ہے اگر زمین کا مالک اجازت نہ دے تو، اگر وہ اجازت دے دیتا ہے تو پھر میت کو منتقل نہیں کیا جائے گا۔

  • الفقه علی المذاهب الاربعة ص 537 ج 1

  • شامی ص 238 جلد 2

  • البحر الرائق ص 210 جلد 2

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

تاریخ اشاعت: 2012-09-18


Your Comments