Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - لفظ آل رسول سے کیا مراد ہے؟

لفظ آل رسول سے کیا مراد ہے؟

موضوع: ایمانیات  |  عقائد

سوال پوچھنے والے کا نام: کلیم حسین شاہ       مقام: پونچھ، جموں وکشمیر، انڈیا

سوال نمبر 2119:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ آل رسول میں سے اگر کوئی شخص سواداعظم سے یا مسلک اہلسنت سے باہر ہو جائے یا کسی دوسرے مسلک سے وابسطہ ہو تو اس صورت میں وہ آل رسول کہلائے گا یا نہیں؟

جواب:

  1. آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے اگر کوئی شخص سواد اعظم یا عقیدہ صحیحہ سے باہر ہو جائے یا کسی بھی باطل عقائد رکھنے والی جماعت کے ساتھ شامل ہو جائے تو اس صورت میں وہ آل رسول نہیں کہلائے گا۔
  2. آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مراد جس کا عقیدہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے ماتحت ہو، جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کرنے والا ہو۔ لہذا جس کا عقیدہ خراب ہو وہ آل رسول نہیں ہو سکتا۔ آل سے مراد اولاد نہیں ہے بلکہ پیروی کرنے والا ہے۔ لہذا ہر وہ مسلمان جو حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی پیروی کرتا ہے، اطاعت کرتا ہے۔ اس کا عقیدہ درست ہے وہ آل رسول ہے۔ آل سے مراد پیروی واتباع کرنے والا ہونا قرآن مجید سے ثابت ہے۔ اللہ تعالی نے بے شمار مقامات پر فرمایا : (آل فرعون) لیکن دوسری طرف دیکھا جائے تو فرعون کی کوئی اولاد ہی نہ تھی اس سے مراد یہ ہے کہ وہ لوگ جو فرعون کی پیروی کرتے ہیں۔ اسی طرح حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے کی مثال دی کہ وہ آپ کی آل میں سے نہیں ہے وہ ابن رسول تو تھا لیکن آل رسول نہ تھا کیونکہ اس نے حضرت نوح علیہ السلام کی پیروی نہ کی۔ ان کے عقیدہ کو چھوڑ دیا۔ قرآن مجید میں ارشاد فرمایا :

قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ

(هُوْد ، 11 : 46)

ارشاد ہوا اے نوح علیہ السلام بے شک تیرا گھر والوں میں شامل نہیں کیونکہ اس کے عمل اچھے نہ تھے۔

لہذا آل رسول وہی ہو گا جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے راستے پر چلے گا۔ جس کا عقیدہ درست ہو گا۔ جس نے عقیدہ صحیحہ چھوڑ دیا اتباع رسول چھوڑ دی وہ آل رسول میں سے نہیں ہو گا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

تاریخ اشاعت: 2012-09-15


Your Comments