کیا جہاد بالقتال صرف ریاست ہی کر سکتی ہے؟

سوال نمبر:2108
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ جہاد کی تعریف کیا ہے اور جہاد کے لیے کون بلا سکتا ہے؟ کوئی بھی اسلام کا نمائندہ، علامہ، مفتی یا اسلامی ریاست کا بادشاہ وغیرہ۔ برائے مہربانی اگر مجھے سے تفصیل سے جواب دینے کے لیے ایک کتاب بھی بتا دیں جس سے میں مطالعہ کر سکوں؟

  • سائل: وقاص محمودمقام: نامعلوم
  • تاریخ اشاعت: 13 دسمبر 2012ء

زمرہ: جہاد

جواب:

  1. عدل وانصاف اور امن وسلامتی کے حصول کے لیے مومن کا اپنی تمام تر جانی، مالی، جسمانی، لسانی اور ذہنی وتخلیقی صلاحتیں صرف کرنا جہاد کہلاتا ہے۔
  2. کسی منظم حکومت کی زیرنگرانی ظلم کے خلاف اور عدل وانصاف قائم کرنے کے لیے زبان، مال، قلم اور اسلحہ سے جو جد وجہد کی جائے اس جہاد کہا جاتا ہے۔
  3. جہاد کے لیے سربراہ مملکت ہی بلا سکتا ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟