Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - جہاد کے لیے کون بلا سکتا ہے؟

جہاد کے لیے کون بلا سکتا ہے؟

موضوع: ایمانیات  |  جہاد

سوال پوچھنے والے کا نام: وقاص محمود       مقام: نامعلوم

سوال نمبر 2108:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ جہاد کی تعریف کیا ہے اور جہاد کے لیے کون بلا سکتا ہے؟ کوئی بھی اسلام کا نمائندہ، علامہ، مفتی یا اسلامی ریاست کا بادشاہ وغیرہ۔ برائے مہربانی اگر مجھے سے تفصیل سے جواب دینے کے لیے ایک کتاب بھی بتا دیں جس سے میں مطالعہ کر سکوں؟

جواب:

  1. عدل وانصاف اور امن وسلامتی کے حصول کے لیے مومن کا اپنی تمام تر جانی، مالی، جسمانی، لسانی اور ذہنی وتخلیقی صلاحتیں صرف کرنا جہاد کہلاتا ہے۔
  2. کسی منظم حکومت کی زیرنگرانی ظلم کے خلاف اور عدل وانصاف قائم کرنے کے لیے زبان، مال، قلم اور اسلحہ سے جو جد وجہد کی جائے اس جہاد کہا جاتا ہے۔
  3. جہاد کے لیے سربراہ مملکت ہی بلا سکتا ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

تاریخ اشاعت: 2012-12-13


Your Comments