Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا دو ورد ایک ساتھ کیے جا سکتے ہیں؟

کیا دو ورد ایک ساتھ کیے جا سکتے ہیں؟

موضوع: درود و سلام   |  ذکر

سوال پوچھنے والے کا نام: سعدیہ ملک       مقام: گوجرانوالہ

سوال نمبر 2090:
السلام علیکم میں درود ابراہیمی کثرت سے اور شوق سے پڑھتی ہوں اور آج کل دل کرتا ہے کہ ساتھ ساتھ سورۃ یاسین بھی کثرت سے پڑھوں۔ پوچھنا یہ چاہتی ہوں کہ سنا تھا ورد ایک ہی کرنا چاہیے دو ورد ایک ساتھ نہیں کرنا چاہیے۔ آپ بتا دیں کہ دو ورد ایک ساتھ کیے جا سکتے ہیں یا نہیں؟ اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے؟

جواب:

دو یا دو سے زیادہ ورد ایک ساتھ کیے جا سکتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ درود ابراہیمی نماز کے اندر پڑھنے کا حکم ہے۔ نماز سے باہر پڑھنا بھی جائز ہے لیکن یہ صرف درود پاک ہے اس میں سلام نہیں ہے اور اللہ تعالی نے ہمیں حضور علیہ الصلاۃ والسلام پر درود وسلام دونوں پڑھنے کا حکم دیا ہے۔ لہذا آپ صرف درود پاک نہیں بلکہ درود وسلام دونوں پڑھا کریں۔

اللہ تعالی نے فرمایا :

إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا.

(الْأَحْزَاب ، 33 : 56)

بیشک اللہ اور ا س کے (سب) فرشتے نبیِ (مکرمّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجتے رہتے ہیں، اے ایمان والو! تم (بھی) اُن پر درود بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو۔

اس لیے ہم پر ضروری ہے کہ ہم حضور علیہ الصلاہ والسلام پر درود وسلام پڑھیں لہذا آپ ان کلمات کے ساتھ حضور علیہ الصلاۃ والسلام پر درود وسلام بھیجا کریں اور اسے ورد بنا لیں۔

الصلاة والسلام عليک يا رسول الله
وعلی آلک واصحابک يا حبيب الله

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

تاریخ اشاعت: 2012-09-05


Your Comments