کیا روڈ ایکسیڈینٹ میں فوت ہو جانے والا شہید کہلائے گا؟

سوال نمبر:2077
اگر کوئی مسلمان ماہ رمضان میں روڈ ایکسیڈینٹ میں فوت ہو جائے تو کیا وہ شہید ہو گا اور کیا قبر میں اس سے رمضان اور شہادت کی وجہ سے کوئی سوال و جواب نہیں ہونگے؟ اور دوسرا سوال یہ ہے کہ جمعہ کی سنتوں کی نیت کیا ہو گی کیا وہ جمعہ کی ہونگی یا پھر ظہر کی؟

  • سائل: محمد شاہد خانمقام: ملتان، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 06 ستمبر 2012ء

زمرہ: شہید کے احکام

جواب:

  1. اگر کوئی مسلمان ماہ رمضان یا غیر رمضان روڈ ایکسیڈنٹ میں فوت ہو جائے تو وہ شہید ہوتا ہے بشرطیکہ اس کا سفر معاصی کی طرف نہ ہو، ڈاکہ زنی، دہشت گردی، چوری یا کسی بھی غلط مقصد کے لیے نہ ہو۔
  2. اللہ تعالی رمضان شریف میں خصوصی رعایت عنایت فرماتا ہے اور رحمت کا معاملہ کرتا ہے۔
  3. جمعہ کی سنتوں کی نیت میں جمعہ یا ظہر دونوں کی نیت کی جا سکتی ہے۔ لیکن فرض سے پہلے جو سنتیں ادا کی جائیں انہیں اول جمعہ اور بعد میں ادا کی جانے والی سنتوں کی بعد جمعہ کہہ کر نیت کرنی چاہیے۔ لیکن اگر کوئی صرف جمعہ یا ظہر کہتا ہے تب بھی ٹھیک ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟