Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - پورے ماہ کے روزوں کی قضاء کو ادا کرنے کا کیا طریقہ ہے؟

پورے ماہ کے روزوں کی قضاء کو ادا کرنے کا کیا طریقہ ہے؟

موضوع: عبادات  |  روزہ کی قضاء اور کفارہ

سوال پوچھنے والے کا نام: نازیہ       مقام: لندن

سوال نمبر 2056:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ جس نے پورے مہینے کے روزے رکھنے ہوں تو کیا روزوں کی قضا لگاتار رکھنی ہو گی یا ہفتے میں تین یا چار دن روزے رکھ کر روزوں کی قضا کو پورا کیا جا سکتا ہے؟ براہ مہربانی تفصیل سے جواب دیں۔

جواب:

رمضان کے پورے مہینے کے روزوں کی قضا کرنی ہو یا اس سے کم کی، رمضان کے قضا روزے وقفے وقفے سے رکھے جا سکتے ہیں اور اکٹھے بھی۔ ہفتہ میں تین چار روزے بھی رکھ سکتے ہیں اور پورا ہفتہ بھی یہ روزہ رکھنے والی کی استطاعت پر ہے۔ روزوں کی قضا لگاتار کرنا یعنی مسلسل ایک ماہ کے روزے رکھنا ضروری نہیں، وقفے وقفے سے رکھنا چاہیں تو رکھ سکتے ہیں۔ رمضان کے کفارے کے روزے مسلسل دو ماہ رکھنے کا حکم ہے، قضا روزے، روزہ دار اپنی سہولت کے مطابق جیسے چاہے رکھ سکتا ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

تاریخ اشاعت: 2012-08-28


Your Comments