پورے ماہ کے روزوں کی قضاء کو ادا کرنے کا کیا طریقہ ہے؟

سوال نمبر:2056
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ جس نے پورے مہینے کے روزے رکھنے ہوں تو کیا روزوں کی قضا لگاتار رکھنی ہو گی یا ہفتے میں تین یا چار دن روزے رکھ کر روزوں کی قضا کو پورا کیا جا سکتا ہے؟ براہ مہربانی تفصیل سے جواب دیں۔

  • سائل: نازیہمقام: لندن
  • تاریخ اشاعت: 28 اگست 2012ء

زمرہ: عبادات  |  روزہ کی قضاء اور کفارہ

جواب:

رمضان کے پورے مہینے کے روزوں کی قضا کرنی ہو یا اس سے کم کی، رمضان کے قضا روزے وقفے وقفے سے رکھے جا سکتے ہیں اور اکٹھے بھی۔ ہفتہ میں تین چار روزے بھی رکھ سکتے ہیں اور پورا ہفتہ بھی یہ روزہ رکھنے والی کی استطاعت پر ہے۔ روزوں کی قضا لگاتار کرنا یعنی مسلسل ایک ماہ کے روزے رکھنا ضروری نہیں، وقفے وقفے سے رکھنا چاہیں تو رکھ سکتے ہیں۔ رمضان کے کفارے کے روزے مسلسل دو ماہ رکھنے کا حکم ہے، قضا روزے، روزہ دار اپنی سہولت کے مطابق جیسے چاہے رکھ سکتا ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟