Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا مشروط طلاق واقع ہو جاتی ہے؟

کیا مشروط طلاق واقع ہو جاتی ہے؟

موضوع: طلاق مغلظہ(ثلاثہ)

سوال پوچھنے والے کا نام: طیبہ       مقام: نامعلوم

سوال نمبر 2051:
میرے شوہر نے مجھے کہا کہ اگر تم دس منٹ میں‌ واپس نہ آئی تو تمہیں میری طرف سے تینوں طلاقیں' میں‌ نے یہ الفاظ نہیں‌ سنے لیکن جب میں‌ واپس آئی تو دس منٹ سے وقت زیادہ ہو چکا تھا تب میرے شوہر نے مجھے بتایا کہ میں تمہیں طلاق کے الفاظ کہہ چکا ہوں اب تم کہیں‌ اور جا کے سو سکتی ہو۔ کیا ان الفاظ کے بعد میرا نکاح برقرار ہے یا نہیں اور میرے جسمانی تعلقات اس سے جائز ہیں یا نہیں؟

جواب:

آپ کا سوال پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ آپ لوگ (لڑکا اور لڑکی) اس شادی میں راضی نہیں تھے لیکن زبردستی آپ کو جکڑ دیا گیا تھا اور آپ ایک دوسرے سے چھٹکارا پانا چاہتے تھے۔ بہر حال بقول آپ کے رخصتی کے بعد آپ کے خاوند نے تینوں طلاقیں دس منٹ میں واپس آنے کے ساتھ مشروط کیں تو آپ نہیں آئیں یہ تینوں واقع ہو گئی ہیں کیونکہ اس نے آپ کے سننے اور نہ سننے کا تعیین نہیں کیا۔ اس نے جو لفظ (تینوں طلاقیں) استعمال کیا ہے اس طرح ایک ہی لفظ میں تین طلاقیں بولنے سے تین ہی ہو جاتی ہیں۔ اس صورت میں فیزیکل ریلیشن Physical Relation ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

بصورت مسئولہ تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں چونکہ نکاح ختم ہو گیا تھا اس لیے بعد میں جو تعلقات قائم کیے حرام کیا خالص زنا کیا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2012-08-04


Your Comments