Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا عورت، عورتوں کو نماز جمعہ اور نماز عید پڑھا سکتی ہے؟

کیا عورت، عورتوں کو نماز جمعہ اور نماز عید پڑھا سکتی ہے؟

موضوع: نماز جمعہ   |  نماز عیدین   |  عورت کی امامت

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد یونس       مقام: کراچی

سوال نمبر 2031:
کیا عورت، عورتوں کی جماعت کروا سکتی ہے اگر کروا سکتی ہے تو جماعت کروانے والی آگے کھڑی ہو گی یا پھلی صف میں؟ کئی جگہوں پر عورتیں نماز جمعہ اور عید پڑھاتی ہیں کیا وہ خطبہ جمعہ اور خطبہ عید دیں گی اور جمعہ کی کتنی رکعات پڑھیں گی؟ کیا عید کی نماز مردوں کی طرح پڑھیں گی؟

جواب:

عورت عورتوں کی جماعت کروا سکتی ہے اور جماعت کروانے والی عورت پہلی صف کے درمیان میں کھڑی ہو گی، مرد امام کی طرح مقتدیوں کے آگے نہیں کھڑی ہو گی۔

عورتوں کو نماز جمعہ اور عید مردوں کے ساتھ مساجد اور عیدگاہ میں ہی ادا کرنی چاہیے اور یہی مسنون طریقہ ہے۔ عورتوں پر جمعہ فرض نہیں ہے۔ لیکن اس کے علاوہ عورت، خواتین کو نماز جمعہ اور نماز عید پڑھا سکتی ہے اور عید کا ایک ہی طریقہ ہے مرد وخواتین کے لیے۔ جمعہ کے وقت خطبہ بھی دے گی لیکن آواز باہر نہیں جانی چاہیے، خواتین کے اجتماع تک ہی محدود رکھنی چاہیے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

تاریخ اشاعت: 2012-08-27


Your Comments