Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا سوئے بغیر تہجد ادا کر سکتے ہیں؟

کیا سوئے بغیر تہجد ادا کر سکتے ہیں؟

موضوع: عبادات  |  عشاء   |  نفلی نمازیں   |  نماز تہجد

سوال پوچھنے والے کا نام: فہیم الدین صدیقی       مقام: کراچی، پاکستان

سوال نمبر 2012:
کیا سوئے بغیر تہجد ادا کر سکتے ہیں، اگر کوئی مسلسل تہجد ادا کرتا ہو اور اس کو یہ شک ہو کہ شاید وہ تہجد میں نہ اٹھ سکے گا تو کیا وہ عشاء کی نماز کے بعد تہجد ادا کر لے اور اگر تہجد کے وقت آنکھ کھل جائے تو تہجد ادا کر لے۔

جواب:

تہجد کے نوافل وہی ہونگے جو سونے کے بعد روٹین کے مطابق رات کے پچھلے پہر ادا کیے جائیں۔ لیکن اگر کبھی کبھار کسی وجہ سے رات سویا نہ جا سکے مثلا کسی پروگرام میں شرکت کی وجہ سے، شب بیداری کی وجہ سے، سفر کی وجہ سے یا رات کی نوکری ہے رات بھر سو نہیں سکتے، تو ایسی تمام صورتوں میں سحری کے ٹائم جو نفل ادا کیے جاتے ہیں انہیں تہجد ہی کہے گا۔ لیکن ایسا کبھی کبھار ہوتا ہے۔ لیکن اگر کوئی عشاء کی نماز کے بعد نفل ادا کرتا ہے اس خوف سے کہ وہ سحری کے وقت جاگ نہیں سکے گا تو یہ تہجد نہیں ہونگے، عام نفلی نماز ہو گی۔

لہذا عام روٹین کے ساتھ عشاء کی نماز کے بعد پڑھی جانےوالی نفلی نماز تہجد نہیں ہوتی، بلکہ تہجد کے لیے رات کے پچھلے پہر کا ہونا ضروری ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

تاریخ اشاعت: 2012-07-26


Your Comments