کیا سوئے بغیر تہجد ادا کر سکتے ہیں؟

سوال نمبر:2012
کیا سوئے بغیر تہجد ادا کر سکتے ہیں، اگر کوئی مسلسل تہجد ادا کرتا ہو اور اس کو یہ شک ہو کہ شاید وہ تہجد میں نہ اٹھ سکے گا تو کیا وہ عشاء کی نماز کے بعد تہجد ادا کر لے اور اگر تہجد کے وقت آنکھ کھل جائے تو تہجد ادا کر لے۔

  • سائل: فہیم الدین صدیقیمقام: کراچی، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 26 جولائی 2012ء

زمرہ: عبادات  |  نماز عشاء  |  نفلی نمازیں   |  نماز تہجد

جواب:

تہجد کے نوافل وہی ہونگے جو سونے کے بعد روٹین کے مطابق رات کے پچھلے پہر ادا کیے جائیں۔ لیکن اگر کبھی کبھار کسی وجہ سے رات سویا نہ جا سکے مثلا کسی پروگرام میں شرکت کی وجہ سے، شب بیداری کی وجہ سے، سفر کی وجہ سے یا رات کی نوکری ہے رات بھر سو نہیں سکتے، تو ایسی تمام صورتوں میں سحری کے ٹائم جو نفل ادا کیے جاتے ہیں انہیں تہجد ہی کہے گا۔ لیکن ایسا کبھی کبھار ہوتا ہے۔ لیکن اگر کوئی عشاء کی نماز کے بعد نفل ادا کرتا ہے اس خوف سے کہ وہ سحری کے وقت جاگ نہیں سکے گا تو یہ تہجد نہیں ہونگے، عام نفلی نماز ہو گی۔

لہذا عام روٹین کے ساتھ عشاء کی نماز کے بعد پڑھی جانےوالی نفلی نماز تہجد نہیں ہوتی، بلکہ تہجد کے لیے رات کے پچھلے پہر کا ہونا ضروری ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟