Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - حاملہ عورت کے لیے رمضان کے روزے رکھنا کیسا ہے؟

حاملہ عورت کے لیے رمضان کے روزے رکھنا کیسا ہے؟

موضوع: روزہ  |  فرضیت روزہ   |  مفسدات روزہ   |  مریض کے روزہ کے احکام   |  حیض اور نفاس میں روزہ کے احکام

سوال پوچھنے والے کا نام: نازیہ       مقام: لندن

سوال نمبر 1979:
السلام علیکم میں امید سے ہوں کیا اس حالت میں رمضان کے روزے رکھنا میرے اوپر فرض ہیں؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس حالت میں روزے رکھنے سے دو روزوں کا ثواب ملتا ہے اور بعض کہتے ہیں کہ بچے کو پیٹ میں بھوکہ نہیں‌ رکھنا چاہیے۔ براہ مہربانی وضاحت کریں‌ کہ اس حالت میں عورت کو روزے رکھنے چاہیں یا نہیں؟

جواب:

اگر حاملہ عورت کو روزہ رکھنے کی وجہ سے کسی قسم کے نقصان، بیماری کا خدشہ ہو یا روزہ کی وجہ سے حمل کو نقصان پہنچنے کا خوف ہو تو ایسی صورت میں حاملہ عورت پر روزہ فرض نہیں ہے۔ حمل کی وجہ سے وہ روزہ نہیں رکھے گی اور بعد میں صرف روزہ کی قضاء کرے گی اور حاملہ کو یہ رخصت دی گئی ہے کہ ایسی حالت میں وہ روزہ نہ رکھے۔ اس صورت میں حاملہ مریض کے حکم میں ہو گی۔ جیسے مریض پر روزہ فرض نہیں ہے اسی طرح حاملہ پر بھی روزہ فرض نہیں ہے اور بعد میں جتنے روزے قضاء ہونگے وہ رکھے گی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

تاریخ اشاعت: 2012-07-07


Your Comments