کیا بیوی کی موجودگی میں‌ سالے کی بیٹی سے نکاح کرنا جائز ہے؟

سوال نمبر:1960
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ کیا اسلام میں کوئی ایسی صورت ہو سکتی ہے کہ ایک مرد اپنے سالے کی بیٹی (بیوی کے بھائی کی بیٹی) سے نکاح کرنا چاہے یا کوئی ایسی صورت بن جائے کہ اُسے نکاح کرنا پڑ جائے تو کسی صورت میں ایسا ممکن ہے یا نہیں۔ رہنمائی فرما دیجئے۔ جزاک اللہ۔

  • سائل: فرحان سفیر قریشیمقام: لاہور، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 07 جولائی 2012ء

زمرہ: نکاح   |  محرمات نکاح

جواب:

اسلام میں کوئی بھی شخص اپنے سالے کی بیٹی (بیوی کے بھائی کی بیٹی) سے بیوی کی موجودگی میں نکاح نہیں کر سکتا۔ یعنی دونوں کو ایک ہی نکاح میں جمع نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلی بیوی کو طلاق ہو جائے یا اس کا انتقال ہو جائے۔ اس کے علاوہ کوئی دوسری صورت نہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟