جان بوجھ کر مالی بےایمانی کرنا کیسا ہے؟

سوال نمبر:1953
السلام علیکم، مجھے کچھ عرصہ پہلے دوکاندار نے 100 روپے زیادہ دے دیئے تھے، اور میں اس وقت لالچ اور بے ایمانی کی وجہ سے اس کو واپس نہ کر سکا۔ مگر اب میں‌ شرمندہ ہوں‌ اور اس کو واپس کرنا چاہتا ہوں اگر میں اس کو واپس کر دوں تو وہ کیا سوچے گا اور اگر نہیں کرتا تو کیا مجھے قیامت کے دن جواب دہ ہونا پڑے گا؟

  • سائل: ولیدمقام: جہلم، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 10 جولائی 2012ء

زمرہ: غصب کے احکام

جواب:

جان بوجھ کر بے ایمانی کرنا گناہ کبیرہ ہے۔ آپ سے غلطی سرزد ہوئی اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ایسی غلطی کا احساس ہونا اور اس پر نادم و شرمندہ ہونا۔ اللہ تعالی معاف فرمانے والا ہے۔ آپ اس شخص کے پاس جائیں اس کو روپے واپس لوٹا کر معافی مانگیں امید ہے کہ وہ شخص آپ کو معاف کر دے گا اور آپ کے بارے میں غلط سوچ نہیں رکھے گا بلکہ وہ خوش ہو گا۔ اور اللہ تعالی بھی آپ کے اس عمل سے خوش ہو کر آپ کی اس غلطی کو ضرور معاف فرما دے گا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟