کیا قبرستان میں کھانا کھلانا جائز ہے؟

سوال نمبر:1902
کیا قبرستان میں کھانا کھلانا جائز ہے؟ چند لوگ کہتے ہیں کہ تم سنی لوگ مردے کا اور قبرستان کا ادب و احترام نہیں کرتے اور جو بھی قبرستان میں‌ کھانا کھاتا یا کھلاتا ہے اس پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے۔ تو ہم عرس وغیرہ کے موقع پر قبرستان میں کھانا کھلائیں یا نہ کھلائیں۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں‌ بتائیے گا۔

  • سائل: اسلاممقام: انڈیا
  • تاریخ اشاعت: 29 جون 2012ء

زمرہ: زیارت قبور

جواب:

قبرستان میں کھانا کھلانا جائز ہے، مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ قبروں کی بے حرمتی نہ ہو۔ قبروں کے تقدس کو پامال نہ کیا جائے، اگر تو قبروں کی بے حرمتی ہو، ادب برقرار نہ رہتا ہو تو کھانا کھلانا جائز نہیں ہے۔ اصل چیز قبروں کا ادب واحترام ہے، اگر یہ برقرار رہے تو کھانا کھلانے میں کوئی قباحت اور ممانعت نہیں ہے۔

بے شمار احادیث ہیں جن میں قبروں پر بیٹھنے اور ٹیک لگانے سے منع کیا گیا ہے۔ کسی حدیث میں یا قرآن کی کسی آیت میں کھانا نہ کھلانے کا ذکر موجود نہیں ہے، یہ ایک مباح عمل ہے۔ بس اس چیز کا لحاظ رکھنا ہے کہ قبروں کی بے حرمتی نہ ہو۔ اگر واقعی قبروں کا تقدس پامال ہوتا ہو تو پھر جائز نہیں ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟