Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - مسجد کی خوبصورتی دیکھنے کے لیے عورتوں کا مسجد میں‌ جانا کیسا ہے؟

مسجد کی خوبصورتی دیکھنے کے لیے عورتوں کا مسجد میں‌ جانا کیسا ہے؟

موضوع: مسجد   |  مسجد کے آداب

سوال پوچھنے والے کا نام: احمد علی       مقام: اسلام آباد، پاکستان

سوال نمبر 1898:
کیا عورتوں کا اس نیت سے مسجد میں جانا کہ مسجد کی خوبصورتی دیکھیں جائز ہے؟ میں‌ نے مولا علی رضی اللہ عنہ کا ایک قول پڑھا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب مسجدوں میں ایمان نہیں‌ رہے گا اور مسجدوں کا مقصد صرف زینت و آرائش رہ جائے گا۔

جواب:

مسجد کی خوبصورتی دیکھنے کے لیے عورتوں کا مسجد میں جانا جائز ہے شرعا ایسی کوئی دلیل موجود نہیں ہے جس میں کسی قسم کی ممانعت آئی ہو۔

باقی جہاں تک مساجد کی آرائش وزیبائش اور زیب وزینت کی بات ہے وہ تو خود حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چیز کا ذکر فرمایا ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ بھی ایک وقت (جب میں تم میں نہ ہوں گا) اپنی مسجدوں کو اسی طرح شاندار اور خوبصورت بناؤ گے جس طرح یہود نے اپنے کلیسہ بنائے ہیں اور نصاری نے اپنے گرجے۔

ابن ماجه

اسی طرح دوسری کتب حدیث میں مختلف طرق سے مساجد کی تزئین زیب وزینت کے حوالے سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتایا ہے۔

ان ساری احادیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس طرف اشارہ فرمایا وہ یہ ہے کہ ہم مساجد بڑی بڑی بنائیں گے، کروڑوں روپے خرچ کریں گے، مزین کریں گے، لیکن اس میں نماز ی نہیں ہوں گے۔ کیوں کہ اصل منشاء مساجد کی تعمیر کا وہ عبادت الٰہی ہے، اسی لیے حضرت انس بن مالک نے فرمایا تھا مسجدوں میں لوگ تفاخر کریں گے مگر پھر اس کی آبادی کا خیال کم ہی لوگوں کو ہو گا۔

اس میں شبہ نہیں کہ بعض علماء مسجد کی تزئین اور نقش نگاری کو مکروہ قرار دیتے ہیں۔ لیکن زمانہ کی ترقی کے پیش نظر بعض علماء خوبصورت اور مزین مسجد بنوانے کی اجازت دیتے ہیں۔

تفسير قرطبی ص 207 جزء 12

بدر بن منیر فرماتے ہیں کہ  جب ایسا زمانہ آ جائے جس میں ترقی ہو لوگ اپنے رہنے سہنے کے عالی شان محل اور رنگین کوٹھیاں تعمیر کرنے لگیں تو پھر ایسے زمانہ میں استخفاف اور استہانت سے بچنے کے لیے مسجدوں کی بھی آرائش و زیبائش ہونی چاہیے۔

عمدة القاری، ج : 2 ص 259

اسی طرح امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس کی اجازت دی ہے مگر اس وقت جب یہ تزئین ونفاست تعظیم وتکریم کی نیت سے ہو اور روپے بھی اپنے ذاتی ہوں بیت المال کے نہ ہوں۔

بذل المجهود شرح ابو داؤد، ص : 259 ص : 1

مذکورہ بالا دلائل سے پتہ چلا کہ موجود ترقی یافتہ دور میں بھی گھروں کی طرح مساجد کی تزئین کرنا جائز ہے اور عورتوں کے لیے بھی مسجد کو دیکھنا ایسے ہی جائز ہے جیسے مردوں کے لیے جائز ہے۔ البتہ حیض ونفاس اور ناپاکی کی حالت میں مسجد میں عورتوں کا داخلہ منع ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

تاریخ اشاعت: 2012-06-29


Your Comments