Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - اسلام میں‌ ذکر کے لیے کون کونسے طریقے جائز ہیں؟

اسلام میں‌ ذکر کے لیے کون کونسے طریقے جائز ہیں؟

موضوع: عبادات  |  ذکر بالجہر (نماز کے بعد بلند آواز سے ذکر کرنا)   |  تصوف   |  ذکر

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد خلیل       مقام: کویت

سوال نمبر 1892:
السلام علیکم ، کیا فرماتے ہیں علمائے دين (حضرة - ذكر – طریقہ صوفية ) کے متعلق اس طرح اپنے ہاتھوں كو باربار ہلاتے ہیں۔ اسلام میں‌ ذکر کے لیے کون کونسے طریقے جائز ہیں؟ اور کونسے جائز نہیں‌ ہیں۔ برائے مہربانی قرآن و احادیث کی روشنی میں تفصیلاً بیان فرما دیں۔ جزاک اللہ

جواب:

آپ نے جو طریقے بتلائے ہیں وہ سارے کے سارے جائز ہیں ذکر کے لیے کوئی بھی خاص طریقہ مخصوص نہیں ہے۔ مگر غیر شرعی طریقے سے ذکر کرنا بھی جائز نہیں ہے۔

قرآن میں اللہ تعالی نے ذکر کا بڑا وسیع طریقہ بیان کیا ہے۔ فرمایا :

الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ

(آل عِمْرَان ، 3 : 191)

یہ وہ لوگ ہیں جو (سراپا نیاز بن کر) کھڑے اور (سراپا ادب بن کر) بیٹھے اور (ہجر میں تڑپتے ہوئے) اپنی کروٹوں پر (بھی) اللہ کو یاد کرتے رہتے ہیں۔

گویا حکم یہ ہے کہ اٹھتے، بیٹھتے، لیٹتے، جاگتے، چلتے پھرتے کسی بھی طریقے سے ذکر کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے کوئی مخصوص حالت یا مخصوص طریقہ بیان نہیں کیا گیا۔ بس ذکر کی شرائط پوری ہونی چاہیے، اور کسی بھی صورت میں ذکر کر سکتے ہیں۔

اس موضوع پر تفصیلی مطالعہ کے لیے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی درج ذیل کتب کا مطالعہ کریں

  1. الکنزالثمين فی فضيلة الذکر و الذاکرين

  2. الدعاء والذکر بعد الصلاة

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

تاریخ اشاعت: 2012-06-29


Your Comments