Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - اگر طلاق کا پیپر بیوی کو نہ پہنچے تو کیا طلاق واقع ہو جائے گی؟

اگر طلاق کا پیپر بیوی کو نہ پہنچے تو کیا طلاق واقع ہو جائے گی؟

موضوع: طلاق   |  طلاق مغلظہ(ثلاثہ)   |  خلع کے احکام

سوال پوچھنے والے کا نام: سیدہ شاہوار       مقام:

سوال نمبر 1873:
میں اپنے شوہر کی دوسری بیوی ہوں، انہوں نے اپنی پہلی بیوی کو اسٹام پیپر پر تین مرتبہ طلاق لکھ کر دے دی تھی، مگر وہ یونین کونسل سے رجسٹرڈ نہیں ہوئی تھی۔ اور پہلی بیوی یہ کہتی ہے کہ مجھ تک کوئی طلاق نہیں پہنچی۔ مگر میرے سسرال والے اور میرا شوہر یہ کہتا ہے کہ ہم نے ان کو طلاق دے دی ہے۔ طلاق کا پیپر نومبر 2011 میں بنا جبکہ اس پر انہوں نے تاریخ مئی کی لکھوائی۔ کچھ خاندانی وجوہات کی وجہ سے تو کیا یہ طلاق ہو گئی ہے؟

جواب:

آپ کے سوال کے مطابق طلاق واقع ہو چکی ہے۔ طلاق کا پیپر بیوی کو پہنچے یا نہ پہنچے طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ طلاق کے لیے پیپر بیوی تک پہنچنا ضروری نہیں ہوتا۔ خاوند نے جب بھی طلاق کا لفظ لکھ دیا یا زبانی کہہ دیا تو اسی وقت طلاق ہو جاتی ہے۔ چاہے بیوی کو ملے یا نہ ملے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

تاریخ اشاعت: 2012-06-26


Your Comments