Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا والدین کے منع کرنے پر نفلی روزہ ترک کرنا جائز ہے؟

کیا والدین کے منع کرنے پر نفلی روزہ ترک کرنا جائز ہے؟

موضوع: عبادات  |  روزہ

سوال پوچھنے والے کا نام: ایم یے یوسف       مقام: پاکستان

سوال نمبر 1868:
میری کوشش ہوتی ہے کہ ہفتے میں ایک دن (پیر یا جمعرات) کا روزہ رکھ لیا کروں۔ مگر جب رکھتا ہوں تو والد صاحب اعتراض کرتے ہیں کہ کیوں رکھا ہے؟ کیا ضرورت ہے رکھنے کی؟ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کیوں رکھتے ہو؟ 14، 15 گھنٹے کا روزہ ہے۔ انکا یہ طرز عمل کیسا ہے؟ کیا ان کے اعتراض کی وجہ سے روزہ نہ رکھا کروں؟ جب کہ میں عاقل اور بالغ شخص ہوں اور ایک اچھی جاب کر رہا ہوں مگر والدین کے ساتھ رہ رہا ہوں۔

جواب:

والدین کے منع کرنے پر نفلی روزہ ترک کرنا جائز نہیں ہے۔ اگر کوئی ایسا شرعی عذر نہیں ہے جس کی وجہ سے روزہ نہیں رکھنا چاہیے تو پھر ایسی صورت میں والدین کو منع نہیں کرنا چاہیے، اگر وہ بغیر کسی وجہ سے اعتراض کریں گے یا روکیں گے تو گنہگار ہوں گے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

تاریخ اشاعت: 2012-06-26


Your Comments