Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا انسان اپنے جسم کے اعضاء کسی دوسرے کو دینے کے لیے وصیت کرسکتا ہے؟

کیا انسان اپنے جسم کے اعضاء کسی دوسرے کو دینے کے لیے وصیت کرسکتا ہے؟

موضوع: جدید فقہی مسائل  |  وصیت   |  وصیت کردہ شے کی شرائط

سوال پوچھنے والے کا نام: مستقیم چوہدری       مقام: دبئی، متحدہ عرب امارات

سوال نمبر 1841:
کیا انسان اپنے جسم کے اعضاء کے لیے وصیت کر سکتا ہے کہ یہ اس کے مرنے کے بعد اگر کسی اور کے کام آجائیں، جیسے آنکھیں، دل، گردے وغیرہ۔ دفن کرنے سے پہلے ان کو نکال لیا جائے اور کسی اور کے جسم میں منتقل کر دیا جائے بغیر کسی معاوضہ کے۔ براہ مہربانی نہایت وضاحت کے ساتھ اس کا جواب دیں۔ شکریہ

جواب:

انسانی اعضاء کی ایسی پیوندکاری جس سے کسی حادثے کی بنا پر انسانی جسم کی خراب ہو جانے والی کارکردگی کو پھر سے بہتر بنایا جا سکے، جائز ہے۔ ایسے اقدامات بھی بعض معاملات میں عندالضرورۃ جائز اور مباح تصور کئے جاتے ہیں۔ بلا ضرورت محض تعیش کے لیے سرجری کروانا جائز نہیں۔ چنانچہ صورت مسؤلہ میں کسی فرد کا اپنے اعضاء کے بارے میں‌ وصیت کرنا جائز ہے۔

اسی طرح انسانی اعضاء کی خریدوفروخت کلیتاً ناجائز ہے۔ اسلام اس بات کی قطعا اجازت نہیں دیتا کہ امراء اپنی دولت کے بل بوتے پر دو وقت کی روٹی کو ترسنے والے غریبوں کے گردے یا دیگر اعضاء خرید کر ان کی زندگی کو اجیرن بنا دیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

تاریخ اشاعت: 2012-06-27


Your Comments