کیا انسان اپنے جسم کے اعضاء کسی دوسرے کو دینے کے لیے وصیت کرسکتا ہے؟

سوال نمبر:1841
کیا انسان اپنے جسم کے اعضاء کے لیے وصیت کر سکتا ہے کہ یہ اس کے مرنے کے بعد اگر کسی اور کے کام آجائیں، جیسے آنکھیں، دل، گردے وغیرہ۔ دفن کرنے سے پہلے ان کو نکال لیا جائے اور کسی اور کے جسم میں منتقل کر دیا جائے بغیر کسی معاوضہ کے۔ براہ مہربانی نہایت وضاحت کے ساتھ اس کا جواب دیں۔ شکریہ

  • سائل: مستقیم چوہدریمقام: دبئی، متحدہ عرب امارات
  • تاریخ اشاعت: 27 جون 2012ء

زمرہ: وصیت

جواب:

انسانی اعضاء کی ایسی پیوندکاری جس سے کسی حادثے کی بنا پر انسانی جسم کی خراب ہو جانے والی کارکردگی کو پھر سے بہتر بنایا جا سکے، جائز ہے۔ ایسے اقدامات بھی بعض معاملات میں عندالضرورۃ جائز اور مباح تصور کئے جاتے ہیں۔ بلا ضرورت محض تعیش کے لیے سرجری کروانا جائز نہیں۔ چنانچہ صورت مسؤلہ میں کسی فرد کا اپنے اعضاء کے بارے میں‌ وصیت کرنا جائز ہے۔

اسی طرح انسانی اعضاء کی خریدوفروخت کلیتاً ناجائز ہے۔ اسلام اس بات کی قطعا اجازت نہیں دیتا کہ امراء اپنی دولت کے بل بوتے پر دو وقت کی روٹی کو ترسنے والے غریبوں کے گردے یا دیگر اعضاء خرید کر ان کی زندگی کو اجیرن بنا دیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟