نماز کے اوقات کار کے لیے جدید آلات کا استعمال کیسا ہے؟

سوال نمبر:1820
ایک ڈیجیٹل گھڑی جس میں پانچوں وقت کی آذان کا ٹائم اور ہر نماز کا وقت آنے پر گھنٹی بجتی ہے۔ اور مکروہ ٹائم پر لال بتی جلتی ہے۔ جماعت سے پہلے بھی گھنٹی بجتی ہے ۔کیا یہ سب جائز ہے۔؟ حوالے کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں۔

  • سائل: موسیٰ کاظم، اُپنیمقام: بنگلور، انڈیا
  • تاریخ اشاعت: 06 جون 2012ء

زمرہ: جدید فقہی مسائل  |  نماز  |  نماز کے اوقات

جواب:

نماز کے اوقات کار کے لیے جدید آلات کا استعمال جائز ہے. جدید دور میں یہ لوگوں کی سہولت کے لیے ہے۔ اگر ان میں ٹائم درست فکس کیا جائے تو ٹھیک ہے، ورنہ جائز نہیں ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟