Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا حائضہ عورت میلاد میں درس دے سکتی ہے؟

کیا حائضہ عورت میلاد میں درس دے سکتی ہے؟

موضوع: طہارت   |  حیض   |  میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم  |  نجاستیں   |  تلاوت‌ قرآن‌ مجید

سوال پوچھنے والے کا نام: شاھد محمود       مقام: منگلا میرپور آزاد کشمیر

سوال نمبر 1802:
کیا حائضہ عورت میلاد میں درس دے سکتی ہے؟ اور قرآن مجید کی تلاوت کر کے ختم پڑھ سکتی ہے؟ ایسا ایک خاتون کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ مجبوری ہے لوگ تنگ کرتے ہیں؟

جواب:

حیض اور نفاس والی عورت میلاد کا پروگرام ہو یا اسکے علاوہ کوئی بھی پروگرام ،وہ درس دے سکتی ہیں، دعائیں پڑھ سکتی ہیں، ذکر و اذکار کر سکتی ہیں، لیکن قرآن مجید کی تلاوت نہیں کر سکتی۔ ایسی صورت میں ان کو چاہیے کہ وہ قرآن مجید کی تلاوت نہ کریں بلکہ ان آیات کا ترجمہ پڑھیں اور ان آیات کا حوالہ دے دیں تا کہ عوام خود ان  آیات کی تلاوت کر سکیں۔

حیض و نفاس والی خواتین قرآن مجید کی تلاوت نہیں کر سکتی نہ ہی اس کو چھو سکتی ہیں اور نہ ہی زبانی پڑھ سکتی ہیں لیکن ترجمہ وغیرہ پڑھ سکتی ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

تاریخ اشاعت: 2012-06-02


Your Comments