کیا بیوی کے مطالبہ کرنے پر غصہ کی حالت میں دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے؟

سوال نمبر:1783
السلام علیکُم میرا سوال یہ ہے کہ میری شادی کو بارہ سال ہوئے کبھی ہمارے بیچ لڑائی جھگڑا نہیں ہوا مگر ایک دن ہم دونوں کے بیچ کسی بات کو لے کر تکرار ہوی اور جھگڑا اتنی شدت اختیار کر گیا کہ میری بیوی نے طلاق کا مطالبہ کیا، میں نے کہا میں نے تجھے طلاق دی۔ پھر اس نے کہا کہ نہیں ایسا نہیں طلاق طلاق طلاق کہو۔ میں نے کہا میں اس وقت سمجھنے کی حالت میں نہیں تھا میں اس کے الفاظ دہرا رہا تھا، میرا ارادہ طلاق دینے کا نہیں تھا۔ اب جب پوری طرح سوچنے کی حالت میں آیا تو آپ سے یہ مسئلہ پوچھ رہا ہوں کیا طلاق واقع ہو گئی ہے؟ اگر ہوئی ہے تو کتنی؟کیا میں اپنی بیوی سے دوبارہ رجوع کر سکتا ہوں براہ کرم جواب دیں۔ میں بہت پریشان ہوں

  • سائل: ذوالفقارمقام: بیلگرام بھارت
  • تاریخ اشاعت: 18 مئی 2012ء

زمرہ: طلاق   |  طلاق مغلظہ(ثلاثہ)

جواب:

اس سوال کا تفصیلی جواب گزر چکا ہے
براہِ مہربانی مطالعہ کے لیے یہاں کلک کریں

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟