Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا زمین کی مالیت کی وجہ سے حج فرض ہو جاتا ہے؟

کیا زمین کی مالیت کی وجہ سے حج فرض ہو جاتا ہے؟

موضوع: عشر  |  وجوب عشر   |  نصاب عشر   |  عشری زمین اور خراجی زمین   |  عشر اور نصف عشر   |  سبزیوں اور پھلوں پر عشر

سوال پوچھنے والے کا نام: اے خان       مقام: پاکستان

سوال نمبر 1760:
میرے والد کے نام پر 50 کنال سے زیادہ زمین ہے جس میں سے آدھی زمین پر وہ گندم اگاتے ہیں اور آدھی زمین پر مونگ بھلی وغیرہ۔ برائے مہربانی بتائیں کہ عشر / زکوۃ کیسے نکالیں اور کیا اس زمین کی مالیت کی وجہ سے ان پر حج فرض ہے۔ برائے مہربانی تفصیلی جواب سے مطلع فرمائیں۔

جواب:

اگر زمین کی پیداوار اتنی زیادہ ہے جس سے کوئی شخص صاحب نصاب ہو اور اس پر زکوۃ واجب ہو جائے تو پھر ایسی صورت میں حج فرض ہو گا اور اگر مالیت اتنی زیادہ ہے جس کو فروخت کریں تو صاحب نصاب ہو سکتے ہیں اور آپ کی باقی ضرورتیں پوری ہو رہی ہوں تو پھر حج فرض ہو گا وگرنہ نہیں۔

اپنی زمین کی کل پیداوار کا بیسواں حصہ اگر زمین کی آب پاشی نہر ٹیوب ویل یا کسی ایسے طریقے سے کریں جس سے خرچ اٹھتا ہو اور اگر آبپاشی کا نظام بارش کے ذریعے ہو تو پھر دسواں حصہ عشر نکالا جائے گا۔ یعنی کل پیداوار کا دسواں حصہ عشر کے طور پر نکالا جائے گا اور یہی زمین کی زکوۃ ہوتی ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

تاریخ اشاعت: 2012-05-18


Your Comments