کیا زمین کی مالیت کی وجہ سے حج فرض ہو جاتا ہے؟

سوال نمبر:1760
میرے والد کے نام پر 50 کنال سے زیادہ زمین ہے جس میں سے آدھی زمین پر وہ گندم اگاتے ہیں اور آدھی زمین پر مونگ بھلی وغیرہ۔ برائے مہربانی بتائیں کہ عشر / زکوۃ کیسے نکالیں اور کیا اس زمین کی مالیت کی وجہ سے ان پر حج فرض ہے۔ برائے مہربانی تفصیلی جواب سے مطلع فرمائیں۔

  • سائل: اے خانمقام: پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 18 مئی 2012ء

زمرہ: عشر

جواب:

اگر زمین کی پیداوار اتنی زیادہ ہے جس سے کوئی شخص صاحب نصاب ہو اور اس پر زکوۃ واجب ہو جائے تو پھر ایسی صورت میں حج فرض ہو گا اور اگر مالیت اتنی زیادہ ہے جس کو فروخت کریں تو صاحب نصاب ہو سکتے ہیں اور آپ کی باقی ضرورتیں پوری ہو رہی ہوں تو پھر حج فرض ہو گا وگرنہ نہیں۔

اپنی زمین کی کل پیداوار کا بیسواں حصہ اگر زمین کی آب پاشی نہر ٹیوب ویل یا کسی ایسے طریقے سے کریں جس سے خرچ اٹھتا ہو اور اگر آبپاشی کا نظام بارش کے ذریعے ہو تو پھر دسواں حصہ عشر نکالا جائے گا۔ یعنی کل پیداوار کا دسواں حصہ عشر کے طور پر نکالا جائے گا اور یہی زمین کی زکوۃ ہوتی ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟