کیا ختنہ کروانا مسلمان ہونے کے لئے ضروری ہوتا ہے؟

سوال نمبر:1724
کیا ختنہ کروانا مسلمان ہونے کے لئے ضروری ہوتا ہے؟ اگر کوئی ادھیڑ عمر مرد مسلمان ہو جائے تو کیا اسے ختنہ کروانا پڑے گا؟ کئی افریقی اور جنوب مشرقی ایشیائی مسلم ممالک جیسا کہ انڈونیشیا میں خواتین کے بھی ختنہ کیے جاتے ہیں؟ کیا یہ درست عمل ہے. اس بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟

  • سائل: ہارونمقام: پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 11 مئی 2012ء

زمرہ: جدید فقہی مسائل

جواب:

ختنہ کروانا سنت مؤکدہ ہے اور یہ سب انبیاء کرام کی بھی سنت ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ مسلمان ہونے کے لئے ختنہ کروانا ضروری نہیں ہے، لیکن اگر کوئی نہیں کرواتا تو وہ تارک سنت ہو گا۔

ادھیڑ عمر مرد اگر مسلمان ہو جائے تو اس کے لئے بہتر ہے کہ وہ ختنہ کروائے اگر نہیں کروائے گا تو اس کے مسلمان ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے۔ وہ بہرصورت مسلمان ہو گا۔

جن ممالک میں خواتین کے ختنے کئے جاتے ہیں۔ اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے، علماء کے درمیان اس معاملے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض کے نزدیک ختنہ کرنا جائز اور بعض کے نزدیک ناجائز ہے۔ ختنہ کا مقصد عورتوں سے شہوت کم کرنا ہے۔ لہذا ہمارے نزدیک بھی عورتوں کا ختنہ کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ شہوت کا ہونا ان کا بھی حق ہے۔ لہذا اگر کوئی کرواتا ہے تب بھی ٹھیک اور اگر کوئی ختنے نہیں کرواتا تب بھی ٹھیک ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟