Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - بیماری سے پہلے علاج کروانا کیسا ہے؟

بیماری سے پہلے علاج کروانا کیسا ہے؟

موضوع: جدید فقہی مسائل

سوال پوچھنے والے کا نام: ابوخبیب حمیداللہ       مقام: پشاور، پاکستان

سوال نمبر 1710:
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اسلام میں بیماری سے پہلے علاج کرانا صحیح ہے۔ جیسا کہ ایک انسان میں کینسر کی بیماری نہیں اور وہ کینسر کا علاج کرواتا ہے۔ آج کل مسلمانوں کے ملکوں میں پولیو ویکسین پلائی جاتی ہے حالانکہ یہ بیماری مسلمانوں کے ملکوں میں نہيں۔ اسکا شرعی حل کیا ہے؟

جواب:

اسلام میں بیماری سے پہلے ہی علاج کروانا جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن ہمارے خیال میں ایسا کوئی بھی نہیں کرتا اور نہ آج تک کسی نے بیماری نہ ہونے کی وجہ سے اس کا علاج کروایا ہے۔ بیماری کے بغیر ڈاکٹر علاج بھی نہیں کرتے۔ ہاں ایسا ممکن ہے کہ جو شخص بیماری کے بغیر ڈاکٹر کے پاس جائے اور کہے کہ مجھے کوئی بیماری نہیں ہے اور کینسر کا علاج کر دیں تو ڈاکٹر کینسر کا نہیں اس کے دماغ کا علاج ضرور کرے گا۔ کیونکہ بیماری کے بغیر علاج ممکن نہیں ہے، جب بیماری ہی نہیں تو ڈاکٹر نے علاج کس چیز کا کرنا ہے؟

دوسری بات یہ کہ آپ کی معلومات شاید غلط ہیں پولیو کی بیماری بھی مسلمان ملکوں میں موجود ہے پتہ نہیں سالانہ کتنے بچے پاکستان کے اندر ہی اس موذی مرض کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ ایسا مرض ہے جس سے حفاظتی تدابیر کے لئے بچوں کو پہلے ویکسین پلائی جاتی ہے کیونکہ یہ مرض بچپن میں ہوتا ہے اور ایسی کوئی بیماری نہیں جس کا علاج پہلے کروایا جائے۔

اگر کوئی کرواتا ہے اور ڈاکٹر کرتا ہے تو یہ صحیح ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

تاریخ اشاعت: 2012-04-29


Your Comments