Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا بنک سے قرضہ لینا سود کے ضمن میں‌ آتا ہے؟

کیا بنک سے قرضہ لینا سود کے ضمن میں‌ آتا ہے؟

موضوع: قرض   |  قرض کے مسائل

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد شہزاد مسعود       مقام: خیرپورٹامیوالی

سوال نمبر 1694:
کیا میزان بنک سے قرضہ لینا جائز ہے؟ کیا یہ قرض‌ سود کے ضمن میں‌تو نہیں‌ آتا؟

جواب:

میزان بینک ہو یا کوئی اور اگر بینک سود پر قرضہ دیتا ہے تو یہ ناجائز اور حرام ہے، اور اگر بلا سود قرض دیتا ہے تو یہ جائز ہے۔ مثلا اگر بینک 10،000 روپے قرضہ  اس شرط پر دیتا ہے کہ قرضدار 15،000 روپے  واپس کرے گا تو یہ سود ہے جو حرام ہے۔ اور

 اگر  10،000روپے  قرضہ دیتا ہے اور 10،000 روپے کا ہی مقررہ مدت کے بعد مطالبہ کرتا ہے تو یہ قرض حسنہ ہے جو جائز اور مستحسن ہے۔ مگر بدقسمتی سے قرض حسنہ پر عمل کسی جگہ نہیں ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

تاریخ اشاعت: 2012-04-24


Your Comments