Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا کھانے کو نماز پر مقدم کرنا جائز ہے؟

کیا کھانے کو نماز پر مقدم کرنا جائز ہے؟

موضوع: عبادات  |  آداب   |  کھانے کے آداب   |  پینے کے آداب   |  نماز

سوال پوچھنے والے کا نام: اخلاق خان       مقام: پاکستان، فیصل آباد

سوال نمبر 1687:
میں نے نماز پڑھنے کے لئے وضو کیا۔ لیکن آفس میں کھانا کھانےکا ٹائم ہوگیا۔ آفس بوائےنے کھانا کھانے کےلئےبلایا کہ پہلے کھانا کھا لیں پھر نماز پڑھ لینا۔ میں نےکھانا کھایا پھر واپس آکر نماز پڑھی، یہ بتائیں کہ کیا ایسا کرنا ٹھیک ہے۔ کوئی حرج تو نہیں؟

جواب:

اگر جماعت تیار ہو اور بھوک بھی شدت کی نہ ہو تو ایسی صورت میں نماز سے پہلے کھانا کھانا جائز نہیں ہے۔

دوسری صورت میں اگر شدت کی بھوک لگی ہو اور  انسان کو پتہ ہو کہ وہ کھانا کھائے بغیر نماز میں خشوع وخضوع برقرار نہیں رکھ سکتا، تو ایسی صورت میں کھانے کو نماز پر مقدم رکھیں گے۔  یعنی پہلے کھانا کھالیں گے اور اگر آپ اکیلے نماز پڑھ رہے تھے یا آپ نے خود ہی جماعت کروانی تھی تو نماز سے پہلے کھانا کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے، اگر جماعت کے ساتھ پڑھنی تھی اور بھوک بھی معمولی تھی تو ایسا کرنا ناجائز ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

تاریخ اشاعت: 2012-04-24


Your Comments