کیا فیس بک اور اس جیسی دیگر ویب سائٹس، جہاں غیر اخلاقی مواد پایا جائے، کا استعمال جائز ہے؟

سوال نمبر:1669

حضرت مفتی صاحب
السلام عليكم

درج ذیل سوالات کے بارے میں آپ کی رہنمائی درکار ہے کہ فیس بک اور اس جیسی دوسری ویب سائٹ میں مندرجہ ذیل باتیں موجود ہوتی ہیں:

  1. چیٹ کے ذریے مرد اور عورتوں کی غیرضروی بات چیت۔
  2. محرم و غیر محرم کی ہر طرح کی تصاویر۔
  3. ہر طرح کا میوزک اور ویڈیوز۔
  4. ہر خاص و عام کا دین پر کھل کر بات کرنا، خواہ وہ عالم ہو یا نہ ہو اور اس سے فتنہ پھیلتا ہے۔
  5. مزید یہ کہ 2010ء میں فیس بک پر ایک پیج بنایا گیا تھا جس میں (الله معاف کرے) حضور پاک حضرت محمد صلى الله عليه وآلہ وسلم پر گستاخانہ خاکے بنانے کے لیے لوگوں کو دعوت دی گی اور بڑے پیمانے پر لوگوں نے اس میں حصہ بھی لیا۔ اسی وجہ سے پاکستان اور کچھ دوسرے مسلمان ممالک میں فیس بک چند دنوں کے لیے بند کر دی گئی تھی، جس کے بعد فیس بک کی انتظامیہ نے وہ پیج ہٹا دیا تھا۔

مندرجہ بالا صورتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا ایک مسلمان کا فیس بک استعمال کرنا جائز ہے یا ناجائز؟
آپ اس سلسلے میں فتویٰ عنایت فرما دیں۔ الله آپ سے راضی ہو۔

  • سائل: سلمان سیفمقام: کراچی
  • تاریخ اشاعت: 08 مئی 2012ء

زمرہ: جدید فقہی مسائل

جواب:

ماشاء اللہ! آپ نے بہت اہم مسئلہ پر رائے دریافت کی ہے۔ موجودہ دور انتہائی سریع ترقی کا ہے۔ آج جو اَمر انسان کے خیال میں بھی نہیں ہوتا، کل وہ حقیقت کا روپ دھار چکا ہوتا ہے۔ آج جو ایجاد کا حیطہ ادراک میں بھی نہیں ہوتی، کل وہ مارکیٹ میں عام صارف کی پہنچ میں ہوتی ہے۔ اس سے جہاں بہت سی سہولیات مہیا ہوتی ہیں، وہیں ان ایجادات کے منفی استعمالات کے بہت بھیانک نتائج بھی سامنے آتے ہیں۔

فیس بک اور اس جیسے دیگر سوشل میڈیا بھی اسی طرح کی اختراعات میں سے ہیں جہاں ہر طرح کے لوگ آزادانہ تبادلہ خیالات کرتے ہیں۔ فیس بک ویب سائٹ دراصل امریکہ کی ہارورڈ یونی ورسٹی کے طلباء نے اپنے لیے بنائی تھی کہ وہ ایک دوسرے کی سرگرمیوں اور دلچسپیوں سے باخبر بھی رہیں اور رابطہ میں بھی رہیں، لیکن آج اس ویب سائٹ نے اپنی نوعیت کی دیگر تمام ویب سائٹس کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور نمبر ایک پوزیشن حاصل کر چکی ہے۔

جب لاؤڈ اسپیکر ایجاد ہوا تھا تو اس وقت کے علماء نے اس کے حرام ہونے کا فتوی دیا اور آج وہی علماء اس کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ لہٰذا اپنا پیغامِ دوسروں تک پہنچانے کے لیے فیس بک ایسے ذرائع کا استعمال مستحسن ہے، لیکن ایک بندہ مسلمان کے لیے اس استعمال کو شرعی حدود و قیود کا پابند ہونا چاہیے۔ جو شخص ان ذرائع کا مثبت استعمال کرے گا تو خود بھی اجر پائے گا اور جتنے لوگ اس کے فعل سے متاثر ہوکر نیکی کریں گے ان کا اجر بھی اسے ملے گا۔ اسی طرح جو شخص کسی برائی کا آغاز کرتا ہے تو اسے بھی گناہ ہوگا اور جو لوگ اس کی وجہ سے اس برائی میں ملوث ہوں گے، ان کا گناہ بھی اسی کے سر ہوگا۔ جب کہ بعد میں نیکی یا گناہ کرنے والوں کے اپنے اجر یا گناہ میں بھی کوئی کمی نہ ہوگی۔

حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’جس نے کوئی اچھا طریقہ جاری کیا، پھر اس پر عمل کیا گیا تو اس کے لیے اپنا ثواب بھی ہے اور اسے عمل کرنے والوں کے برابر ثواب بھی ملے گا؛ جب کہ ان کے ثواب میں کوئی کمی (بھی) نہ ہوگی۔ اور جس نے کوئی برا طریقہ جاری کیا، پھر وہ طریقہ اپنایا گیا تو اس کے لیے اپنا گناہ بھی ہے اور ان لوگوں کے گناہ کے برابر بھی جو اس پر عمل پیرا ہوئے بغیر اس کے کہ ان کے گناہوں میں کچھ کمی ہو‘‘۔

(جامع ترمذی، 5 / 43، رقم : 2675)

لہٰذا ہمیں ان ذرائع کا مثبت استعمال کرنا چاہیے کہ جس سے اپنا اور دوسروں کا بھلا ہو نہ کہ اپنی عاقبت بھی برباد ہو اور دوسروں کی آخرت بھی تباہ ہو۔ کسی بھی شے کا استعمال اسے اچھا یا برا بناتا ہے، فی نفسہ وہ اچھی یا بری نہیں ہوتی۔ اگر اچھے لوگ سوشل میڈیا کا استعمال ترک کردیں گے تو برے لوگ تو بھرپور طریقے سے استعمال کر رہے ہیں، وہ تو اسے نہیں چھوڑیں گے۔ لہٰذا کوشش یہ کریں کہ اپنی مثبت اور درست شرکت کے ذریعے لوگوں کو شعور دیں اور انہیں نیک راستے پر چلانے کی کوشش کریں۔ یہ خیال ترک کر دیں کہ ان ویب سائٹس پر تو لوگ اتنے غیر شرعی امور میں ملوث ہوتے ہیں، یا ان ویب سائٹس پر تو غیر اخلاقی مواد پایا جاتا ہے، اس لیے ان ویب سائٹس کو مسلم ممالک میں بند کرا دیا جائے۔ لاؤڈ اسپیکر کا بھی بہت غلط استعمال کیا جاتا ہے، کیا اس کا استعمال بھی بند کر دیا جائے؟ اور اذان و خطبہ مینار پر کھڑے ہوکر دیا جائے؟ نہیں! اس سے تو اسلام کے ایک دقیانوسی مذہب ہونے کا تاثر ملے گا۔

لہٰذا جہاں تک اس طرح ویب سائٹ پر غیر اخلاقی مواد کی موجودگی کا تعلق ہے تو آپ ایسے مواد کو نہ دیکھیں اور کوشش کریں کہ اس طرح کے مواد پر آپ کی نظر ہی نہ پڑے۔ دراصل یہی تو بندہ مومن کا امتحان ہے کہ وہ چاہتے ہوئے بھی خود کو گناہ میں ملوث ہونے سے بچا نہیں سکتا، لیکن اسے خود کو بچانا ہے۔ ان حالات میں ایک مسلمان کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ خود بھی گناہ سے محفوظ رہے اور دوسروں کو بھی دور رکھنے کی کوشش کرے۔ صوفیاء کرام اسی لیے تو فرماتے ہیں کہ دنیا میں رہو لیکن دنیا کو دل میں جگہ نہ دو۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے مؤرخہ 8 اپریل 2012ء کو تحریک منہاج القرآن کے تحت منعقد ہونے والے عالم گیر ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ جب قومیں حق سچ کا ساتھ چھوڑ دیتی ہیں تو ان پر عذاب الٰہی نازل ہوتا ہے۔ آج پاکستانی قوم پر اسی لیے مختلف آفتیں نازل ہوتی رہتی ہیں کہ ہم نے ہر طرح کے ظلم و زیادتی کو قبول کر لیا ہوا ہے۔ سنن ابی داود میں مروی ہے کہ حضرت قیس بن ابی حازم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو منبر پر خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: اے لوگو سنو! میں نے خود اپنے کانوں سے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:

إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوُا الظَّالِمَ فَلَمْ يَأْخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ، أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابٍ.

شیخ الاسلام اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ جس معاشرے میں ظلم ہونے لگے، گناہ ہونے لگیں، نا انصافی ہونے لگے، جبر و بربریت اور خیانت اور کرپشن ہونے لگے لیکن لوگ ظالموں کو ظلم سے روکنے کے لئے، بد دیانت اور کرپٹ لوگوں کو کرپشن سے روکنے کے لئے نہ اٹھیں اور ان کا شعور بیدار نہ ہو، وہ حالات بدلنے کے لئے اپنا فریضہ سر انجام نہ دیں تو ﷲ تعالی پھر ایسی قوم کو اپنے عذاب کی لپیٹ میں لے لے گا اور اس میں نیک و بد کا فرق نہیں رہے گا۔

آپ خود سوچیے کہ کیا حدیث مبارکہ کا اطلاق ہمارے حالات پر نہیں ہو رہا؟

اس کا ایک ہی علاج ہے کہ تحریک منہاج القرآن کے ساتھ وابستہ ہوکر قوم کا شعور بیدار کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں اور ہر فرد آقا علیہ الصلوۃ والسلام کے اس پیغام کو لے کر ایک ایک شخص تک پہنچائے۔ اور یوں اس گروہ میں شامل ہوجائیں جس کے بارے میں حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ قیامت تک میری امت میں ایک طبقہ ایسا رہے گا جو حق کو غالب کرنے کی جد و جہد کرتا رہے گا اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے پیغام کو عام کرنے اور اس حکم کی انجام دہی کے لئے حق کے شعور کو بیدار کرنے میں کوشش کرتا رہے گا۔

آخر میں ایک حدیث بیان کرنا چاہتا ہوں، جو آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہے۔ حکیم ترمذی نوادر الاصول میں بیان کرتے ہیں کہ آقا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

زمین پر لوگوں کے دل اللہ کے برتن ہیں اور اللہ تبارک تعالی کو ان دلوں میں سے سب سے زیادہ محبوب وہ دل ہے جس میں نرمی ہے۔ جو دوسروں کے ساتھ برتاؤ میں نرم ہیں اور گناہوں و بری خواہشات سے پاک اور صاف ہیں۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری اس حدیث مبارکہ کی شرح میں فرماتے ہیں کہ یہ حدیث مبارکہ ایک مومن کے لئے زندگی بسر کرنے کا عملی نصاب ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کو وہی دل سب سے زیادہ پیارے ہیں جن میں نرمی، محبت اور استقامت ہے؛ جو نفرت اور غیض و غضب اور حرص دنیا، لالچ و شہوت سے کلیتاً پاک ہیں۔ برائی کا بدلہ بھلائی سے دیتے ہیں۔ معاملات زندگی میں دوستوں، مسلمان بھائیوں میں نرم برتاؤ کرنے والے ہیں۔ ہر دم اللہ تبارک و تعالیٰ کی بندگی میں ثابت قدم رہنے والے ہیں۔ یہ نیکیوں کا ایسا چارٹر ہے جس پر عمل پیرا ہوئے بغیر امت مسلمہ اپنا کھویا ہوا وقار حاصل نہیں کرسکتی۔

باقی رہا یہ سوال کہ سوشل میڈیا سائٹس پر ہر خاص و عام دین پر کھل کر بات کرتا ہے، چاہے اسے علم ہو یا نہ ہو۔ اس کا حل یہ ہے کہ لوگوں کو یہ احساس دلائیں کہ ہمیں دین کے بارے میں صاحبان علم دین سے ہی دریافت کرنا چاہیے، جیسا کہ قرآن حکیم نے خود فرمایا ہے:

فَاسْأَلُواْ أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ

(النحل، 16 : 43)

’سو تم اہل ذکر سے پوچھ لیا کرو اگر تمہیں خود (کچھ) معلوم نہ ہو۔‘

یہاں ضمنا یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ فیس بک تو یہودیوں نے بنائی ہے، لہٰذا ہمیں استعمال نہیں کرنی چاہیے۔ آپ کس کس شے کا استعمال ترک کریں گے؟ آج تو ہر شے ہی یہود و نصاری کی ایجاد کردہ ہے۔ آپ کا کمپیوٹر جس پر آپ کام کرتے ہیں، آپ کا موبائل فون جس سے کال کرتے یا پیغام بھیجتے ہیں، آپ کا انٹرنیٹ کنیکشن جس کے ذریعے ای میل بھیجتے ہیں۔ لہٰذا کس کس شے کو ترک کریں گے۔ یہود و نصاری کی ایجادات کو ترک کرنا مسئلہ کا حل نہیں بلکہ یہ حقیقت سے نظریں چرانے کے مترادف ہے، بلکہ ان ایجادات کو بھرپور استعمال کرتے ہوئے اپنی صلاحیت میں اضافہ کریں اور قابلیت پیدا کریں۔

لہٰذا محترم سلمان سیف صاحب! کنارہ کشی کرکے الگ تھلگ ہوکر رہنے کی بجائے میدان عمل میں اتریں۔ اپنا دینی فریضہ ادا کریں، تحریک منہاج القرآن کا ساتھ دیں۔ وگرنہ کل روز محشر کیا جواب دیں گے؟ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان نے کیا خوب فرمایا ہے:

آج لے ان کی پناہ، آج مدد مانگ ان سے
کل نہ مانیں گے، قیامت میں اگر مان گیا

دنیا دار العمل ہے اور آخرت دار الجزاء۔ لہٰذا آج جو نیکی کر سکتے ہیں کر لیں کیونکہ یہی توشہ آخرت کل کام آئے گا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے دین کی کما حقہ خدمت کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ (آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد فاروق رانا

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟