محاسبۂ نفس سے کیا مراد ہے؟

سوال نمبر:165
محاسبۂ نفس سے کیا مراد ہے؟

  • تاریخ اشاعت: 21 جنوری 2011ء

زمرہ: روحانیات  |  روحانیات

جواب:

نفس کے احوال و کيفیات اور روحانی خطرات کی ہمہ وقت نگرانی کرنا محاسبہ نفس ہے۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا :

احْبِسْ نَفْسَکَ عَنِ الشَّرِّ فإنَّها صَدَقَة تَصَدَّقُ بها علٰی نَفْسِکَ.

’’اپنے نفس کو شر سے بچا کر رکھیں، پس بے شک یہ صدقہ ہے جو جو تمہاری جان پر صدقہ ہے۔‘‘

 احمد بن حنبل، المسند، 2 : 511

محاسبۂ نفس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے :

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ.

الحشر، 59 : 18

’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لئے آگے کیا بھیجا ہے۔‘‘

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟